’ایک سال میں الیکٹرانک فنگر پرنٹ لینے کا انتظام ہوسکتا ہے‘

چیئرمین نادرا کا کہنا تھا کہ ایک سال میں الیکٹرانک فنگر پرنٹ لینے کا انتظام کیا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچیئرمین نادرا کا کہنا تھا کہ ایک سال میں الیکٹرانک فنگر پرنٹ لینے کا انتظام کیا جا سکتا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے داخلہ امور سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ مشین کے ذریعے فنگر پرنٹس لیے جائیں توان کی شناخت کے نتائج 99 فیصد تک درست حاصل ہوسکتے ہیں جبکہ کاغذ پر لیے جانے والے فنگر پرنٹ سے 46 فیصد نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے چیئرمین عثمان یوسف نے کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں کاغذ پر انگوٹھوں کے نشانات ہونے کی وجہ سے پچاس فیصد سے بھی کم انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق ہوسکی ہے۔

عثمان یوسف نے کہا کہ اگر آئندہ الیکشن میں بھی کاغذ پر فنگر پرنٹ لیےتو نتیجہ یہی 46 فیصد ہوگا۔ چیئرمین نادرا کا کہنا تھا کہ ایک سال میں الیکٹرانک فنگر پرنٹ لینے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غلط کارڈ بنانے والے نادرا اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے، پچھلے 5 سال میں 116 اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ان افراد کی ملازمت سے برطرفی کافی نہیں بلکہ جرائم میں ملوث ان اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکن اسمبلی شائستہ ملک نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کی شکار خواتین کے نام ظاہر نہ کیے جائیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناجلاس میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکن اسمبلی شائستہ ملک نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کی شکار خواتین کے نام ظاہر نہ کیے جائیں

اجلاس میں کمیٹی ارکان اپنے اسلحہ لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو عوام کا کیا حال ہوگا، ایم کیوایم کے رکن اسمبلی آصف حسنین نے کہا کہ نادرا کے پاس کارڈز کے اجرا اور تحقیقات کا کوئی طریقہ کار نہیں۔

اجلاس میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکن اسمبلی شائستہ ملک نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کی شکار خواتین کے نام ظاہر نہ کیے جائیں کیونکہ میڈیا پر نام آنے کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں لوگ اُن کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بل میں ایسی خواتین کے لیے سماجی بہبود کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے اس بل کی حمایت کی۔ یہ بل قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

چئیرمین نادرا نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس ادارے کو بہت سے بین الاقوامی ٹھیکے بھی ملے ہیں جن میں بنگلہ دیش کا ڈرائیونگ لائسنس، کینیا کا پاسپورٹ، سوڈان کے نیشنل ڈیٹا رجسٹریشن سمیت کئی عالمی منصوبے شامل ہیں۔