’یہ دس برس کسی امتحان سے کم نہ تھے‘

مصنوعی ٹانگ کے باعث مشی آج ایک عام بچی کی سی زندگی گزارتی ہے
،تصویر کا کیپشنمصنوعی ٹانگ کے باعث مشی آج ایک عام بچی کی سی زندگی گزارتی ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

دس سالہ مشی خان عام بچوں کی سی زندگی گزارتی ہے، فٹبال کھیلتی ہے اور اونچے نیچے راستوں پر چلتی پہاڑ کی چوٹی پر بنے اپنے سکول جاتی ہے۔ اپنی کلاس میں بھی مشی باقی بچوں کی طرح پڑھتی اور سبق سناتی ہے۔

لیکن مشی خان عام بچی نہیں ہے۔ وہ صرف چھ ماہ کی تھی جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے والے زلزلے میں اس کا گھر گرا اور وہ اس میں دب گئی۔ اگلے روز جب وہ ملبے سے نکلی تو اس کی ایک ٹانگ ضائع ہو چکی تھی۔

مصنوعی ٹانگ کے باعث مشی آج ایک عام بچی کی سی زندگی گزارتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی اسے اپنے معذور ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

مشی عموماً سکول سے چھٹی نہیں کرتی لیکن بارش اور برفباری اس کے لیے بری خبر لاتے ہیں۔’جب برف پڑتی ہے تو مجھے چلنے میں مشکل ہوتی ہے اور میں سکول نہیں جا سکتی۔ وہ دن میرے لیے بہت برا ہوتا ہے۔‘

جب برف پڑتی ہے تو مجھے چلنے میں مشکل ہوتی ہے اور میں سکول نہیں جا سکتی
،تصویر کا کیپشنجب برف پڑتی ہے تو مجھے چلنے میں مشکل ہوتی ہے اور میں سکول نہیں جا سکتی

مشی کی والدہ حلیمہ فاروق کہتی ہیں کہ انھوں نے مشی کو کبھی کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا لیکن خود ان کے لیے یہ دس برس، کسی امتحان سے کم نہ تھے۔

’مشی ایک سال کی تھی جب میں اسے پہلی بار مصنوعی ٹانگ لگوانے کے لیے ہسپتال لے کر گئی تھی۔ ظاہر ہے یہ بہت مشکل کام تھا کیونکہ اسے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ چلانا آسان نہیں تھا۔ کبھی اس ٹانگ میں مسئلہ ہو جاتا کبھی کچھ اور ہو جاتا۔ یہ سب بہت مشکل تھا۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2005 میں آنے والے زلزلے میں 23 ہزار بچے زخمی ہوئے، جن میں سے بعض ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے۔

مشی خان ان خوش قسمت بچوں میں سے ہے جنھیں باغ شہر میں بنے بچوں کے مصنوعی اعضا بنانے والے ادارے ’چل‘ میں ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل تھیں۔

لیکن سب بچے مشی جتنے خوش نصیب نہیں رہے۔

اس زلزلے نے 42 ہزار بچوں کے سروں سے ایک یا دونوں والدین کا سایہ چھین لیا۔ ان میں سے چند، مظفرآباد میں غیر ملکی تعاون سے چلنے والے یتیم خانے میں مقیم ہیں۔

ویسے تو اس ایس او ایس ویلج میں اور بھی بہت سے بچے ہیں لیکن، اس ادارے کی سربراہ شمیم بیگ کہتی ہیں کہ زلزلے میں اپنے والدین سے محروم ہونے والے بچے دوسرے یتیم بچوں سے بہت مختلف ہیں۔

ادارے کی سربراہ شمیم بیگ کہتی ہیں کہ زلزلے میں اپنے والدین سے محروم ہونے والے بچے دوسرے یتیم بچوں سے بہت مختلف ہیں
،تصویر کا کیپشنادارے کی سربراہ شمیم بیگ کہتی ہیں کہ زلزلے میں اپنے والدین سے محروم ہونے والے بچے دوسرے یتیم بچوں سے بہت مختلف ہیں

’باقی بچے تو اپنے ماں یا باپ سے محروم ہوئے لیکن زلزلے کے دوران ان بچوں نے تو اپنا گھر بھی تباہ ہوتے دیکھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی دنیا تباہ ہوئی۔ اس لیے یہ بچے دوسرے یتیم بچوں سے بہت زیادہ حساس ہیں۔‘

پاکستان اور اسکے زیر انتظام کشمیر میں اکتوبر سنہ 2005 میں آنے والے اس زلزلے سے 15 لاکھ بچے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک پوری نسل اس زلزلے کے آسیب تلے جوان ہو رہی ہے۔

اسی نوعیت کا ایک زلزلہ دو ہفتے قبل نیپال میں بھی آیا ہے جس میں ہلاکتیں ساڑھے سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔ نیپال کے زلزلے میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا شہر کٹھمنڈو رفتہ رفتہ زندگی کی طرف لوٹنا شروع ہو گیا ہے۔

بازار اور دفاتر کھل رہے ہیں اور لوگ اپنے معمولات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسے تباہ کن زلزلے کے بعد زندگی کی بحالی میں کئی برس بلکہ دہائیاں بھی لگ سکتی ہیں۔

دس سالہ مشی خان زلزلے کے طویل عرصے تک برقرار رہنے والے اثرات کی چلتی پھرتی اور کھیلتی کودتی مثال ہے۔