نیپال میں پھر شدید زلزلہ، درجنوں افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

،تصویر کا ذریعہEPA
جنوبی ایشیائی ملک نیپال کے مشرقی علاقے میں منگل آنے والے ایک اور شدید زلزلے سے نیپال اور بھارت میں اب تک کم از کم 48 افراد کی ہلاکت اور ایک ہزار سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
نیپال پہلے ہی 25 اپریل کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے جس میں تقریباً آٹھ ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔
تازہ ترین زلزلہ نامچے بازار کے قریب آیا، جس کے بعد دارالحکومت کٹھمنڈو کے ہزاروں شہری سراسیمہ ہو کر گلیوں میں نکل آئے۔
نیپالی حکام کے مطابق منگل کو آنے والے زلزلے نے ملک کے 75 اضلاع میں سے 31 کو متاثر کیا ہے۔
بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق زلزلے سے نیپال سے ملحقہ بھارتی علاقوں میں بھی 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں سے 16 اموات ریاست بہار میں ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق منگل کو آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.3 تھی اور اس کا مرکز كٹھمنڈو سے 83 کلومیٹر مشرق میں ماؤنٹ ایورسٹ کے نزدیک واقع نامچے بازار نامی قصبہ تھا۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:35 پر آیا اور اس کے جھٹکے بنگلہ دیش کے علاوہ بھارت کی مشرقی ریاستوں اور دارالحکومت دہلی تک محسوس کیے گئے۔
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق گذشتہ زلزلے کی طرح منگل کے زلزلے کا مرکز بھی زمین میں صرف 15 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
12:35 کے پہلے بڑے جھٹکے کے تقریباً 30 منٹ بعد 6.3 شدت کا ایک اور بڑا جھٹکا بھی محسوس کیا گیا جس کا مرکز کھٹمنڈو کے مشرق میں رامی چھپ کا علاقہ تھا۔ اس کے بعد بھی مزید چار جھٹکے آئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار سائمن کوکس کا کہنا ہے کہ ’یہ زلزلہ بہت شدید تھا اور تقریباً 25 سیکنڈوں تک محسوس کیا گیا۔ زمین ہل رہی تھی، پرندوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور عمارتیں ہلنے لگی تھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد آنے والے جھٹکوں نے لوگوں کو دہلا کر رکھ دیا اور وہ رونے اور چلانے لگے۔
زلزلے کے وقت بی بی سی کی نامہ نگار یوگیتا لیمائے ایک امدادی ٹیم کے ہمراہ نیپال کے پہاڑوں میں تھیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہم لوگ محفوظ ہیں۔ ہم نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے اور یہ جھٹکے خاصی دیر تک جاری رہے۔ ہم نے قریب ہی پہاڑوں سے اٹھتی ہوئی گرد اور پتھر بھی لڑھکتے ہوئے دیکھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید بتایا کہ ’زمین بہت دیر تک ہلتی رہی۔‘
’ہم گذشتہ دنوں میں کئی مرتبہ جھٹکے دیکھتے رہے ہیں۔ اب پہلا زلزلہ آئے ہوئے ڈھائی ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن آج (منگل) کا جھٹکا بہت طویل تھا۔ لوگ بہت خوفزدہ ہو گئے ہیں۔‘
امدادی اداروں کے مطابق کھٹمنڈو کے مشرق میں واقع چوتارہ نامی قصبے میں کئی عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔
مہاجرین کے بین الاقوامی ادارے ’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ کا کہنا ہے کہ چوتارہ میں ملبے میں دب جانے والے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کھٹمنڈو میں ایک دکاندار پرکاش شلپاکر کا کہنا تھا کہ یہ زلزلہ بہت شدید تھا۔

،تصویر کا ذریعہafp
بھارت میں زلزلے کے جھٹکے ریاست اتر پردیش، دارالحکومت دہلی، مغربی بنگال اور بہار کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جہاں عمارتیں ہل کر رہ گئیں اور لوگ گھبرا کر سڑکوں پر نکل آئے۔
دہلی میں زلزلے کی شدت گذشتہ ماہ آنے والے زلزلے کے مقابلے میں زیادہ تھی۔
اس کے علاوہ بنگلہ دیش دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی زلزلے کا جھٹکا محسوس کیا گیا۔
دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار مرزا عبدالباقی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دہلی کے کناٹ پلیس علاقے میں اونچی عمارتوں سے لوگ بڑی تعداد میں باہر نکل آئے اور کافی دیر تک ’آفٹر شاک‘ کے خدشے کی وجہ سے سڑکوں پر رہے۔







