نیپال میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں رہائش اور گندے پانی کی نکاسی کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ہیضہ، اسہال اور دیگر امراض پھوٹ سکتے ہیں۔
برطانوی امدادی ادارے ڈِزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔
12 خیراتی اداروں پر مشتمل اس تنظیم کا کہنا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ نیپال میں 25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 7,000 سے زائد جبکہ زخمیوں کی تعداد 10,000 تک پہنچ گئی ہے۔
اس وقت دنیا بھر سے4,000 سے زائد امدادی کارکن زلزلے کے متاثرین کی مدد میں حصہ لینے کے لیے نیپال میں موجود ہیں۔

برطانوی امدادی ادارے ڈی ای سی کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں اسہال اور سینے میں انفیکشن کی متعدد رپورٹیں پہلی ہی موصول ہو چکی ہیں۔
ڈی ای سی کی امدادی ایجنسیاں زلزلے کے متاثرین کو ہنگامی رہائش، پینے کے صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔
ڈی ای سی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاہم اس ماہ کے اختتام پر مون سون کا موسم شروع ہونے سے پہلے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی ای سی کے ترجمان کے مطابق نیپال میں ہیضے کی وبا کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سنہ 2009 میں تین لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہوئے جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 600 تھی۔
امدادی ادارے ڈی ای سی نے نیپال کے زلزلہ متاثرین کے لیے اب تک تین کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ سے زائد کی رقم کی اپیل کی ہے۔
برطانوی حکومت نے عوامی فنڈ کے ذریعے 50 لاکھ پاؤنڈ فراہم کیے ہیں اور مزید مدد کی یقین دہانی کروائی ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ نیپال کے زلزلہ متاثرین کے لیے سب سے زیادہ امداد فراہم کر رہا ہے جس کا کل حجم دو کروڑ 28 لاکھ پاؤنڈ بتایا جاتا ہے۔
ڈی ای سی کی رکن آکسفیم بھی کٹھمنڈو کے چار کیمپوں میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔
اسی طرح امدادی ادارے ایکشن ایڈ نےکٹھمنڈو سے باہر موجود 2,500 افراد کے لیے جراثیم کش ادویات پر مشتمل کِٹس فراہم کی ہیں۔







