نیپال میں6621 ہلاکتیں ’ملبے تلے زندگی کا امکان نہیں‘

نیپال میں 7.8 کی شدت سے زلزلہ آیا جس نے ملک کی 80 لاکھ ابادی کو متاثر کیا ہے
،تصویر کا کیپشننیپال میں 7.8 کی شدت سے زلزلہ آیا جس نے ملک کی 80 لاکھ ابادی کو متاثر کیا ہے

نیپال میں ایک ہفتے قبل آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امدادی کارروائیوں میں ملبے تلے موجود افراد میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

نیپال میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سوریندر پھویال کے مطابق ڈی آئی جی پولیس ہیمنت پال کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 6621 ہو چکی ہے جبکہ 14 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ دور دراز کے اضلاع جن میں ڈھانڈنگ، رسوا اور سندھوپلچوک بھی شامل ہیں میں امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی برادی مزید ائیر کرافٹ فراہم کرے

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ دو مزید سی ون تھرٹی طیارے امدادی اشیا اور ٹیم کے ساتھ نیپال پہنچ گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ امدادی ایشا میں 600 خیمے، سات نیپالی ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم بھی شامل ہے جو پاکستان میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز نیپالی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اسے مزید ائیر کرافٹ فراہم کرے تاکہ وہ دور دراز کے علاقوں میں فضائی امداد پہنچا سکے اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کر سکے کیونکہ نیپال کے متاثرہ علاقوں تک زمینی راستے سے پہنچنا ممکن نہیں رہا۔

گذشتہ سنیچر کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں سات اعشاریہ آٹھ کی شدت کے اس زلزلے کو بھارت، چین اور پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی محسوس کیا گیا۔

امدادی کارروائیوں کے دوران گذشتہ دو روز سے کوئی بھی زندہ شخص کو ملبے تلے سے نہیں نکلا
،تصویر کا کیپشنامدادی کارروائیوں کے دوران گذشتہ دو روز سے کوئی بھی زندہ شخص کو ملبے تلے سے نہیں نکلا

ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی نے نیپالی وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرساد دھکل کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے سے زندہ افراد کو تلاش کرنے کی امید باقی نہیں رہی۔

’ہم ہر ممکن طور پر بچاؤ اور امداد کا کام کر رہے ہیں مگر میرے خیال سے ملبے تلے مزید کسی کے زندہ بچ جانے کا امکان نہیں ہے۔‘

کھٹمنڈو میں امدادی اشیا کا ذخیرہ

بی بی سی کےنامہ نگار سنجوئے مجندر کے مطابق اب بھی ملبے تلے سے لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں دوردراز کے علاقوں سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں لیکن اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

نامہ نگار کے مطابق اب بھی بڑی مقدار میں بین لاقوامی برادری کی جانب سے بھجوائے جانے والی امداد کھٹمنڈو میں ہی پھنسی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ نیپال کی 80 سالہ تاریخ میں یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے جس میں لگ بھگ 80 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

اس سے قبل بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے یونیسیف نے خبردار کیا تھا کہ چند ہفتے بعد شروع ہونے والی مون سون کی بارشوں میں زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں میں موجود 17 لاکھ بچے وبائی امراض کا شکار ہوسکتے ہیں۔