’زلزلے کےمرکزی علاقے 90 فیصد سے زیادہ تباہ ، مزید امداد کی اپیل‘

وزارتِ داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ 20 ہیلی کاپٹرز امدادی اشیا لے کر دور دراز کے علاقوں میں جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزارتِ داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ 20 ہیلی کاپٹرز امدادی اشیا لے کر دور دراز کے علاقوں میں جا رہے ہیں

عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ نیپال میں سنیچر کو آنے والے زلزلے کے مرکزی علاقے ’تقریباً مکمل طور پر تباہ‘ ہو چکے ہیں جبکہ حکومت نے عالمی برادری سے مزید امدادی طیارے مانگے ہیں۔

زلزلے کی تباہی کا جائزہ لینے والی ریڈ کراس کی ٹیم نے کہنا ہے کہ متاثرین مایوسی کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ نیپالی حکام کے مطابق زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6204 تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 13932 ہے۔ ملک کے وزیراعظم نے دو روز قبل اپنے بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

مزید ایئر کرافٹ کی ضرورت

ملبے سے بحفاظت زندہ نکالا جانے والا نوجوان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنملبے سے بحفاظت زندہ نکالا جانے والا نوجوان

بتایا جا رہا ہے کہ اگرچہ امدادی ٹیمیں دارالحکومت کھٹمنڈو اور اس کے گردونواح میں موجود متاثرین کی مدد کر رہی ہیں تاہم دوردراز کے علاقوں تک رسائی میں اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پہاڑی علاقوں میں متاثرین تک امداد پہنچانے اور زخمیوں کو منتقل کرنے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے مزید ایئر کرافٹ کی ضرورت ہے۔

نیپال کے وزیر خزانہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ملک کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے دو ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

وزارتِ داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ 20 ہیلی کاپٹرز امدادی اشیا لے کر ضلع ڈولاکھا، رشوا، نواکوٹ، ڈھاڈنگ، کورکھا اور سندھو پلچوک پہنچے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اگرچہ چین کی جانب سے مزید ہیلی کاپٹرز بھجوائے جانے کی توقع ہے لیکن نیپالی حکام نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری سے مزید ہوائی جہاز فراہم کرنے کو کہا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپہاڑی علاقوں میں لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں

زلزلے سے 80 لاکھ نیپالی متاثر ہوئے ہیں جو کہ ملک کی کل آبادی کا چوتھا حصہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں چھ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا اور 70 ہزار مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

بدھ کو حکام نے امدادی کارروائیوں کے دوران کھٹمنڈو سے ایک 15 سالہ نوجوان اور ایک 20 سالہ لڑکی کو ملبے تلے سے زندہ باہر نکالا۔ تاہم امدادی کارروائیوں پر متاثرین مطمعن دکھائی نہیں دے رہے اور مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جمعے کو وزارتِ داخلہ حکام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کھٹمنڈو میں جاری امدادی کارروائیوں کا مرکز شدید تباہ شدہ علاقے میں جن میں مرکزی بس سٹیشن کے نواحی علاقے اور تاریخی مقامات شامل ہیں۔

ریڈ کراس نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ سندھو پلچوک نیپال کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔

’ہماری ٹیم سندھو پلچوک اور چوتارا سے واپس لوٹی ہیں ، رپورٹس کے مطابق وہاں 90 فیصد سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں‘

ایشیا کے لیے ادارے کے سربراہ جگن چاپاگین کا کہنا ہے کہ لوگ ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے خاندان میں کون ہے جو اب بھی زندہ ہے؟

ادارے کا کہنا ہے کہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی کم وپیش ایسی ہی صورتحال ہو سکتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ صرف سندھو پلچوک میں 40 ہزار مکانات تباہ ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ملک کی دو تہائی آبادی بھی متاثر ہو گی جو کسانوں پر مشتمل ہے۔