نیپال کے دور افتادہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچنا شروع

نیپال میں سنیچر کے زلزلے سے متاثرہ دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے جبکہ دارالحکومت کھٹمنڈو میں امداد کی تقسیم میں سستی پر متاثرین کی پولیس سے دھکم پیل ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق امدادی سرگرمیوں کا دائرہ دورہ افتادہ علاقے گورکھا اور دھاڈنگ تک بڑھ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سنیچر کو سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے 39 اضلاع میں 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت میں پانچ ہزار افراد سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ دس ہزار کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

اب بھی متاثرین کی بڑی تعداد کو خوراک اور پینے کی پانی کی شدید ضرورت ہے جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد نے چوتھی رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری۔

متاثرین کی بڑی تعداد نے چوتھی رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمتاثرین کی بڑی تعداد نے چوتھی رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری

نامہ نگاروں کے مطابق نیپالی حکومت پر امدادی سامان کو منظم انداز میں تقسیم نہ کرنے پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کھٹمنڈو میں امدادی سامان کی تقسیم میں سست روی پر متاثرہ افراد کا پولیس سے تصادم ہوا ہے۔

دوسری جانب آفٹر شاکس کے ڈر کی وجہ سے ہزاروں افراد دارالحکومت سے نکل رہے ہیں جس کی وجہ سے بسوں کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور بس سٹینڈز پر مسافروں کے ایک دوسرے سے جھگڑنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

حکومت کھٹمنڈو کے شہریوں کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کر رہی ہے جبکہ سکول کی بسوں کو امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

دارالحکومت سے باہر نکلنے کے لیے بس کے انتظار میں کھڑے ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ہمیں لاشوں کی وجہ سے شہر میں وبائی امراض کے پھوٹنے کا خوف ہے، خود کو محفوظ رکھنے کے لیے شہر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔‘

دارالحکومت میں متاثرہ افراد کی خوراک نہ ملنے سے پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندارالحکومت میں متاثرہ افراد کی خوراک نہ ملنے سے پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی ہے

شہر چھوڑ کر جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے بس اڈوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں اور کئی افراد کا پہلے سے بھری بسوں میں سوار ہونے کی کوشش میں پولیس اہلکاروں سے جھگڑا بھی ہوا۔

ملک میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے غم میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خیمے، خوراک اور ادویات پہنچائی جا رہی ہیں تاہم امدادی اداروں کے مطابق نیپال میں امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ ملک کے واحد کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر زیادہ تعداد میں جہاز اترنے کی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے فلائٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔

امدادی کارروائیوں کے دائرے میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامدادی کارروائیوں کے دائرے میں اضافہ ہوا ہے

لندن میں ایئر چارٹر سروس کے ڈائریکٹر جسٹن لینکاسٹر کے مطابق کھٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر دو سے تین بڑے ہوائی جہاز اترنے کی صلاحیت ہے اور ہوائی اڈے میں موجود گودام پہلے ہی بھر چکے ہیں۔

نیپال کی وزارتِ داخلہ کے مطابق پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور بجلی کی کمی کا ساماا ہے جبکہ ان علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

’بہت مشکل گھڑی ہے‘

نیپال کی وزارتِ داخلہ کے مطابق پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیپال کی وزارتِ داخلہ کے مطابق پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

منگل کو خبر رساں ادارے روئیٹرز سے نیپالی وزیراعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالا نے بین الاقوامی برادری سے متاثرین کو ٹینٹ اور ادویات فراہم کرنے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت جنگی بنیادوں پر تمام دستیاب وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نیپال کے لیے ایک امتحان اور بہت مشکل گھڑی ہے۔‘

دور افتادہ علاقوں میں امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندور افتادہ علاقوں میں امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے

خیال رہے کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں افراد نے عارضی خیموں میں پناہ لے رکھی ہیں۔

حکام کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں 200 سے زائد کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ پر برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں غیر ملکی کوہ پیماؤوں سمیت 17 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔