نیپال میں ہلاکتیں پانچ ہزار، تین دن کے قومی سوگ کا اعلان

نیپال میں ہفتے کو آنے والے تباہ کن زلزلے میں پانچ ہزار افراد کی ہلاکت کے غم میں ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم سُشیل کوئرالہ نے کہا ہے کہ حکومت متاثرین کی امداد کے لیے بھرپور کوشش کر رہی لیکن زلزلے سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس سے نکلنےمیں وقت لگے گا۔

امداد کارکن ملک کے دور دراز علاقوں میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

زلزلے کے بعد شدید بارشوں نے کھلے آسمان تلے پڑے بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے 39 اضلاع میں 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت میں دس ہزار کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم کوئرالہ نے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا کہ’ نیپال اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے ان بھائیوں اور بہنوں، بزرگوں اور بچوں کی یاد میں جو اس زلزلے میں اپنی جانوں سے چلے گئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم تین دن تک قومی سطح پر سوگ منائیں گے۔‘

وزیراعظم نے گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

نیپال میں آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔

متاثرین کی بڑی تعداد نے تیسری رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ تقریباً 156 لاکھ افراد کوخوراک اور مدد کی ضرورت ہے۔

اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ نیپال اور اس کے گردونواح میں آفٹر شاکس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

کھٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر امدادی جہازوں کو لینڈنگ میں تاخیر کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکھٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر امدادی جہازوں کو لینڈنگ میں تاخیر کا سامنا ہے

دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خیمے، خوراک اور ادویات پہنچائی جا رہی ہیں تاہم امدادی اداروں کے مطابق نیپال میں امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ ملک کے واحد کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر زیادہ تعداد میں جہاز اترنے کی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے فلائٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔

لندن میں ایئر چارٹر سروس کے ڈائریکٹر جسٹن لینکاسٹر کے مطابق کھٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر دو سے تین بڑے ہوائی جہاز اترنے کی صلاحیت ہے اور ہوائی اڈے میں موجود گودام پہلے ہی بھر چکے ہیں۔

امدادی اداروں کے مطابق مال بردار ہیلی کاپٹر دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے وہاں امداد پہنچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے

سوریا موہن نامی افسر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہاں کے مکینوں کے پاس اب نہ چھت ہے اور نہ ہی مویشی۔ ان کے پاس خوراک کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں بچا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہاں پہنچنا بہت مشکل ہے۔ بارش، لینڈسلائڈنگ اور تیز ہواؤوں کے باعث ہیلی کاپٹرز کا زمین پر اترنا ناممکن ہوجاتا ہے۔

نیپال کی وزارتِ داخلہ کے مطابق پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور بجلی کی کمی کا ساماا ہے جبکہ ان علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

’بہت مشکل گھڑی ہے‘

خبر رساں ادارے روئیٹرز سے نیپالی وزیراعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالا نے بین الاقوامی برادری سے متاثرین کو ٹینٹ اور ادویات فراہم کرنے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت جنگی بنیادوں پر تمام دستیاب وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں کر رہی ہے۔

دور افتادہ علاقوں میں امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندور افتادہ علاقوں میں امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نیپال کے لیے ایک امتحان اور بہت مشکل گھڑی ہے۔‘

خیال رہے کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں افراد نے عارضی خیموں میں پناہ لے رکھی ہیں۔

زلزلے کے مرکز کے قریب واقع بیشتر دیہات میں تاحال امداد نہیں پہنچ سکی تاہم بین الاقوامی امداد دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچنا شروع ہو چکی ہے۔

اتوار کو نیپال میں چھ اعشاریہ سات کی شدت سے آنے والے آفٹر شاکس نے متاثرین کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناتوار کو نیپال میں چھ اعشاریہ سات کی شدت سے آنے والے آفٹر شاکس نے متاثرین کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق امداد لے کر دو مزید سی ون تھرٹی طیارے کھٹمنڈو پہنچ گئے ہیں۔

زلزلے سے چین اور بھارت میں بھی درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں 200 سے زائد کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ پر برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں غیر ملکی کوہ پیماؤوں سمیت 17 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔