نیپال میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امداد پہنچنا شروع

،تصویر کا ذریعہAP

سنیچر کی صبح نیپال میں گذشتہ 80 برس کے شدید ترین زلزلے میں تقریباً دو ہزار افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی امدادی کارروائیوں میں اتوار کی صبح سے خاصی تیزی آئی ہے۔

مختلف ممالک سے امدادی ٹیمیں اور ساز وسامان زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچا شروع ہو چکا ہے۔ خاص طور پر پاکستان، بھارت، چین اور امریکہ اور امدادی اداروں نے نیپال کو اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی اور امداد پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

  • بھارت نے ہوائی جہازوں کے ذریعے ادویات، موبائل ہسپتال اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے 40 اہلکار بھیجے ہیں۔
  • پاکستان نے چار سی ون تھرٹی طیاروں میں 30 بستروں کا فیلڈ ہسپتال، طبی عملہ اور امدادی سامان نیپال روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جو لے کر امدادی ٹیمیں نیپال پہنچ گئی ہیں۔
  • امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے مطابق امریکہ نے دس لاکھ ڈالر اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • برطانیہ نے امدادی اہلکاروں پر مشتمل آٹھ افراد کی ٹیم بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔
  • ناروے نے ساڑھے 20 لاکھ برطانوی ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔جرمنی، فرانس، سپین اور یورپی یونین نے بھی نیپال کو امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں نیپال کے ساتھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم نواز شریف نے زلزلے کی اطلاع ملتے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ نیپال کو جو بھی امداد چاہیے ہوگی، پاکستان وہ امداد فراہم کرے گا۔‘

پرویز رشید نے بتایا کہ کھٹنمنڈو کا ہوائی اڈّہ کھلتے ہی پاکستانی فوج کے طیارے ابتدائی طبی امداد لیکر نیپال پہنچ گئے ہیں جس میں ایک (فیلڈ) ہسپتال، ڈاکٹروں کی ٹیم، ادویات، طبی ساز وسامان اور امدای کارکن شامل ہیں۔

پاکستان کی طرف سے یہ فوری امداد ہے اور ’اس کے بعد بھی نیپال کی حکومت کو جو بھی ضرورت ہوا، پاکستان اپنی ہمت اور صلاحیت کے مطابق نیپال کی وہ ضروریات پوری کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

کھٹمنڈو سے بی بی سی کی نامہ نگار سریندرا پھویال کے مطابق شہر کی فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر مسلسل پرواز کر رہے ہیں جو ملک کے مغربی علاقوں میں زلزلے کے متاثرین کو امداد پہنچانے میں مصروف ہیں جبکہ کھٹمنڈو شہر میں کم از کم پانچ مقامات پر زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی تلاش جاری ہے اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دو بلڈوزر وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب تباہ ہونے والی ایک چار منزلہ عمارت کا ملبے ہٹانے اور اس کے نیچے دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملبے کے قریب کھڑے ایک شخص نے نامہ نگار کو بتایا کہ تباہ شدہ عمارات محکمۂ ٹیکس کا مقامی دفتر تھا جہاں سے ہلاک ہونے والے عملے کے چار افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

اتوار کی سہ پہر جب متاثرین کی تلاش اور امدای کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں تو شہر کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ایک شدید جھٹکے (آفٹر شاک) کا سامنا کرنا پڑا جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔

مزید جھٹکوں کے خوف سے کھٹمنڈو شہر میں جا بجا لوگ میدانوں اور کھلے مقامات پر جمع ہیں اور انھیں کھانے پینے کی اشیاء اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگ دعا کر رہے ہیں کہ کسی طرح زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلے رکے اور زندگی معمول پر آ جائے۔

امدادی کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ کھٹمنڈو شہر کے مرکز میں واقع پریڈ گراؤنڈ میں ٹینٹ لگا دیے گئے ہیں جہاں بےگھر ہو جانے والے ہزاروں متاثرین کو پناہ دی جا رہی ہے۔

طبی امداد فراہم کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود ادویات اور دیگر ساز وسامان کم پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب امدای کارکنوں کو بھی ضروری امدادی آلات کی کمی کا سامنا ہے اور سنیچر کی رات سے کئی مقامات پر کارکن اپنے ہاتھوں سے ملبا ہٹا کر نیچے دبے ہوئے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔

فوج کے ایک افسر سنتوش نیپال نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایک تباہ شدہ تین منزلہ عمارت کے ملبے میں چھوٹے چھوٹے ہتھوڑوں کی مدد سے ایک سرنگ بنائی کیونکہ یہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ وہاں پر بلڈوزر استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اب بھی لوگ اس عمارت کے ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔‘