زلزلے کے پانچ روز بعد ملبے سے نوجوان کو زندہ نکال لیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty
زلزے سے متاثرہ نیپال کے دارالحکمومت کھٹمنڈو میں پانچ روز بعد ایک عمارت کے ملبے سے ایک نوجوان کو زندہ نکال لیا گیا ہے جبکہ زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
جب اس نوجوان کو ملبے سے باہر نکالا گیا تو ہجوم کی بڑی تعداد نے امدادی کارکنوں کی کوششوں پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس نوجوان کو ایک فیلڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کھٹمنڈو میں عمارت کے ملبے سے زندہ نکالے جانے والے نوجوان کی شناخت پمبا لاما کے نام سے ہوئی۔
بی بی سی کے یوگیتا لیمائے نے ٹوئٹر پر ان کے بارے میں لکھا کہ اس نوجوان نے انھیں بتایا کہ وہ گیلے کپڑوں سے پانی نچوڑ کر اور برتنوں میں موجود مکھن کھا کر گزارا کرتے رہے۔
اس سے قبل بدھ کو بھکتا پور کے علاقے سے ایک 11 سالہ لڑکی کو ملبے سے زندہ نکالا گیا تھا۔
دوسری جانب نیپالی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث دور دراز کے دیہات میں امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
امدادی کاموں میں تاخیر کے باعث حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دارالحکومت کھٹمنڈو کے باہر زلزلے سے تودے اور چٹانیں گرنے سے زمینی رابطے منقطع ہیں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امداد پہنچائی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیپال کی وزارت داخلہ کے ترجمان لکشمی دخل نے بی بی سی کو بتایا کہ امدادی کارکنان اور امداد سامان لے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر تیار تھے تاہم ’بارش اور ابرآلود حالات‘ کے باعث انھیں روک لیا گیا۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے مطابق امدادی سرگرمیوں کا دائرہ دورہ افتادہ علاقے گورکھا اور دھاڈنگ تک بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سنیچر کو سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے 39 اضلاع میں 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ دس ہزار کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اب بھی متاثرین کی بڑی تعداد کو خوراک اور پینے کی پانی کی شدید ضرورت ہے جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد نے پانچویں رات بھی کھلے آسمان تلے گزاری۔
نامہ نگاروں کے مطابق نیپالی حکومت پر امدادی سامان کو منظم انداز میں تقسیم نہ کرنے پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کھٹمنڈو میں امدادی سامان کی تقسیم میں سست روی پر متاثرہ افراد کا پولیس سے تصادم ہوا ہے۔
دوسری جانب آفٹر شاکس کے ڈر کی وجہ سے ہزاروں افراد دارالحکومت سے نکل رہے ہیں جس کی وجہ سے بسوں کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور بس سٹینڈز پر مسافروں کے ایک دوسرے سے جھگڑنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
حکومت کھٹمنڈو کے شہریوں کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کر رہی ہے جبکہ سکول کی بسوں کو امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
دارالحکومت سے باہر نکلنے کے لیے بس کے انتظار میں کھڑے ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ہمیں لاشوں کی وجہ سے شہر میں وبائی امراض کے پھوٹنے کا خوف ہے، خود کو محفوظ رکھنے کے لیے شہر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
شہر چھوڑ کر جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے بس اڈوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں اور کئی افراد کا پہلے سے بھری بسوں میں سوار ہونے کی کوشش میں پولیس اہلکاروں سے جھگڑا بھی ہوا۔
ملک میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے غم میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔
دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خیمے، خوراک اور ادویات پہنچائی جا رہی ہیں تاہم امدادی اداروں کے مطابق نیپال میں امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ ملک کے واحد کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر زیادہ تعداد میں جہاز اترنے کی گنجائش نہیں ہے جس کی وجہ سے فلائٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔







