نیپال کے مختلف علاقوں اور تاریخی مقامات کے زلزلے سے پہلے اور بعد کے مناظر
،تصویر کا کیپشنسنیچر کو دارالحکومت کھٹمنڈو اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 7.8 شدت کے زلزلے میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی تاریخی مقامات بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس میں مندر اور ثقافتی مقامات شامل ہیں۔ (دہراہرا ٹاور، کھٹمنڈو: 27 اکتوبر 1998 اور 26 اپریل 2015)
،تصویر کا کیپشنیونیسکو کی جانب سے بین الاقوامی ورثہ قرار دیے جانے والے سات مقامات میں سے کم از کم چار مقامات جن میں تین مختلف شہروں میں واقع تاریخی سکوائر بھی ہیں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ (دربار سکوائر، کھٹمنڈو: 13 فروری 2013 27 اپریل 2015)
،تصویر کا کیپشن کھٹمنڈو کے تاریخی دربار سکوائر میں کئی عمارتیں مسمار ہوگئی ہیں۔ (دربار سکوائر، کھٹمنڈو: فروری 2013 27 اپریل 2015 )
،تصویر کا کیپشندارالحکومت میں واقع 200 فٹ اونچا دہراہرا ٹاور جو 1832 میں بنایا گیا تھا مسمار ہوگیا ہے۔ (دہراہرا ٹاور کی زلزلے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر)
،تصویر کا کیپشنشہر کے کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں بنائی جا رہی ہیں۔ یہاں پر بے گھر ہونے والے افراد اور ایسے افراد نے پناہ لے رکھی ہے جو زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں کے خوف سے اپنے گھروں کے اندر نہیں رہنا چاہتے ہیں۔ (کھٹمنڈو سٹیڈیم کی زلزلے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصویر)
،تصویر کا کیپشنملک کے قدیم شہر بھکتاپور میں ابتدائی اندازوں کے مطابق نصف سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور 80 فیصد مندر تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ تاریخی شہر دارالحکومت کے مشرق میں واقع ہے۔ (بھکتاپور: اکتوبر 2014 اور 27 اپریل 2015)
،تصویر کا کیپشنمختلف ممالک سے ریسکیو اور میڈیکل ٹیمیں نیپال پہنچ رہی ہیں۔ (دربار سکوائر، بھکتاپور: فروری 2015 اور اپریل 2015)