ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریچرڈ گالپن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کھٹمنڈو
نیپالی حکومت نے ایک انتہائی متنازع قدم کے تحت شرپاؤں کی ایک ٹیم ماؤنٹ ایورسٹ کے لیے روانہ کی ہے تاکہ کوہ پیمائی جلد از جلد شروع کی جا سکے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے میں ماؤنٹ ایورسٹ کے دامن میں واقع بیس کیمپ برف کے تودوں سے متاثر ہوا تھا اور اس میں 19 کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے۔
ان شرپاؤں کی ٹیم کو بیس کیمپ سے آگے کے راستے کو درست کرنے کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔
برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں جو پہلے کیمپ پر جانے کے لیے لگائی گئی تھیں وہ تباہ ہو چکی ہیں، اور کوہ پیماؤں کا پہلے کیمپ تک پہنچنا ناممکنات میں شامل ہو گيا ہے۔
نیپال میں سیاحت کے شعبے کے ڈائرکٹر تلسی گوتم نے کہا: ’ہمارے اندازے کے مطابق چند دنوں میں یہ لوگ اسے درست کر دیں گے‘ کیونکہ ان کے خیال میں چند سیڑھیاں ہی تباہ ہوئي ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا: ’اگر ہم مئی کے پہلے ہفتے میں راستے کو ٹھیک کر سکے تو یہ عین ممکن ہے کہ کوہ پیما اپنی مہم مئی کے تیسرے یا چوتھے ہفتے تک پوری کر لیں۔‘
بتایا گیا ہے کہ حکومت پیر کو اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گي۔
خیال رہے کہ ایورسٹ سر کرنے کا موسم مئی کے اختتام پر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد یہاں مون سون کا آغاز ہو جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بہت سے کوہ پیما ابھی بھی بیس کمیپ پر اس امید میں ہیں کہ کب راستے کھلیں اور وہ اپنی مہم پر روانہ ہوں۔
دنیا کی اس بلندترین چوٹی کو سر کرنے کی خواہشیں ہر کوہ پیما کے دل میں موج زن ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے بہت پیسے درکار ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی کوہ پیما ٹیم کے ایک رکن سہیل شرما نے کہا: ’بہت سے کوہ پیماؤں کے لیے یقیناً یہ پیسے کا سوال ہے۔‘
وہ بیس کیمپ سے نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو آئے تاکہ اس بابت حکومت کا موقف معلوم کر سکیں تاکہ ان کی ٹیم بقول ان کے ایورسٹ کے اس ’روحانی سفر‘ کو پورا کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پہاڑ کو کوہ پیماؤں کے لیے بند رکھا گیا تو ہر ایک کوہ پیما کو کم از کم 70 ہزار ڈالرکا نقصان ہو گا۔
لیکن بہت سے لوگوں نے 25 اپریل کو رونما ہونے والے حالات میں اس مہم کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس زلزلے میں ابھی تک سات ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 14 ہزار سے بھی زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
تجارتی مقاصد کے تحت کوہ پیمائی کی سربراہی کرنے والے گائے کوٹر کے پانچ شرپا برف کے تودے گرنے سے ہلاک ہو گئے تو انھوں نے اپنی مہم منسوخ کر دی۔

انھوں نے کہا: ’مجھے معلوم ہے کہ جن ٹیموں کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا ہے ان کا خیال ہے کہ وہ اس سفر کو پورا کریں۔‘
ایک برطانوی کوہ پیما ایڈریئن ہیز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ایورسٹ سر کرنے کا اپنا ارادہ ترک کر دیا ہے اور اب وہ اپنی صلاحیت کو زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی کاموں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
وہ تربیت یافتہ طبی معاون ہیں اس لیے وہ دور دراز کے علاقوں کا رخ کر رہے تاکہ لوگوں کو امداد پہنچائی جا سکے۔
اس بحران کے باوجود حکومت ایورسٹ کی کوہ پیمائی کے راستے کو کھولنا چاہتی ہے بشرطیہ کہ ایسا کرنا محفوظ ہو۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پر ان کوہ پیماؤں کی جانب سے دباؤ ہے جو اپنا ارادہ ترک کرنا نہیں چاہتے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب مالی وجوہات بھی ہیں کیونکہ سیاحت نیپال کی واحد صنعت ہے اور کوہ پیمائي اور ٹریکنگ اس کا اہم حصہ ہیں۔
حالات جس قدر جلد معمول پر آتے ہیں سیاحت پر اس کا اثر اتنا ہی کم پڑے گا۔
خیال رہے کہ لگاتار دوسرے سال ایورسٹ سر کرنے کی مہم متاثر ہوئی ہے۔ اس سے قبل برفانی طوفان میں 16 شرپاؤں کی موت کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔
لیکن اس بار شرپاؤں کا کہنا ہے کہ وہ پہاڑ پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔



