نیپال زلزلے میں 7000 سے زائد ہلاکتیں، شدید متاثرہ علاقوں تک رسائی

امدادی سامان اس وقت کسٹم کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے ملک کے واحد ہوائی اڈے پر جمع ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامدادی سامان اس وقت کسٹم کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے ملک کے واحد ہوائی اڈے پر جمع ہو رہا ہے

نیپالی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 7000 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زلزلے سے شدید طور پر متاثرہ دور دراز کے علاقوں میں امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں جہاں محصور لاتعداد افراد اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سوریندر پھویال سے گفتگو کرتے ہوئے نیپال کے ضلع سندھو پلچوک کے انتظامی سربراہ ہمناتھ دوادی نے بتایا کہ علاقے کے 95 فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اسی علاقے میں 1400 سے زائد افراد کی ہلاکت کی خبر ملی تھی۔

سندھو پلچوک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال میں واقع اس ضلعے کے پہاڑوں اور وادیوں میں موجود متاثرین خیموں، ادویات اور خوراک کے منتظر ہیں۔

ادھر ڈی آئی جی ہمناتھ پال نے بتایا ہے کہ اتوار کو بھی امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیپال کے محتلف علاقوں سے موصول ہوبے والے اعدادو شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 7040 ہوچکی ہے جبکہ 14021 افراد زخمی ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ریلیف فنڈ

پاکستان کے وزيراعظم نوازشريف نے نيپال کے زلزلہ متاثرين کے لیے ملک میں خصوصی ريليف فنڈ قائم کر دیا ہے۔

یہ بات پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اسلام آباد میں نیپال کے سفیر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ پاکستان کی جانب سے امدادی اشیا اور ٹیمیں نیپال میں موجود ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نیپال کے سفیر راج پودیال نے بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں نیپال کے 41 ہزار مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ مکانوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔

اقوامِ متحدہ کی تشویش

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ سنیچر کو اقوام متحدہ میں فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس کے مطابق نیپالی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امدادی سامان کی کسٹم کلیئرنس کو تیز کرے۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے روانہ کی جانے والی امداد کی ایک بڑی مقدار کھٹمنڈو ایئر پورٹ پر کسٹم کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے۔

ویلری آموس کا کہنا ہے کہ انھوں نے نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالا کو باور کرایا ہے کہ انھوں نے سنہ 2007 میں اقوام متحدہ سے کسی آفت کی صورت میں کسٹم کلیئرنس کو سادہ اور تیز کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

ویلری آموس کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے امید ہے کہ اب انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی۔

نیپال میں اقوام متحدہ کے نمائندے جیمی میک گولڈریک نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپالی حکومت کو عام حالات کے لیے موجودہ کسٹم قواعد و ضوابط کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

نیپال کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرشاد کے مطابق جمعے سے خیموں اور ترپالوں پر عائد درآمدی ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے تمام سامان کی جانچ پڑتال کرنا ضروری ہے۔

ختم ہوتی امید

اب بھی بڑی بھی بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناب بھی بڑی بھی بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں

زلزلے کے ایک ہفتے بعد امدادی کارروائیوں میں ملبے تلے موجود افراد میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرساد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے زندہ افراد کو تلاش کرنے کی امید باقی نہیں رہی۔

جمعے کو نیپالی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اسے مزید ہیلی کاپٹرز فراہم کرے تاکہ وہ دور دراز کے علاقوں میں فضائی امداد پہنچا سکے اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کر سکے کیونکہ نیپال کے متاثرہ علاقوں تک زمینی راستے سے پہنچنا ممکن نہیں رہا۔