نیپال میں پچیس اپریل کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش
،تصویر کا کیپشننیپال میں 25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت کے زلزلے میں ہونے والی تباہی کے بعد اب مختلف متاثرہ علاقوں میں متاثرین نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مکانات کا ملبہ صاف کرنا شروع کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشندارالحکومت کھٹمنڈو اور اس کے مضافات میں بڑی تعداد میں املاک کو نقصان پہنچا۔ زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بعد تاحال اب بھی کئی علاقوں میں لوگ امداد کے منتظر ہیں۔
،تصویر کا کیپشنزلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں رہائش اور گندے پانی کی نکاسی کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ہیضہ، اسہال اور دیگر امراض پھوٹ سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اسی لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔ بھاری مشینری دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ملبہ صاف کرنے میں شاید کئی ہفتے لگ جائیں۔
،تصویر کا کیپشندارالحکومت میں زلزلے سے تاریخی مقامات کے ملبے کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کے لیے فوجی اہلکاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنملک میں چند ہفتوں بعد مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ سے بے گھر افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب بھی بڑی تعداد میں لوگ عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکئی لوگ دن میں اپنے مکانات کا ملبہ صاف کرتے ہیں اور رات کیمپوں میں گزارتے ہیں۔ دارالحکومت میں زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ شہر چھوڑ کر عارضی طور پر دیہی علاقوں میں منتقل بھی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنکھٹمنڈو میں اب بھی جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں تاہم اب آہستہ آہستہ لوگوں نے ملبے پر ہی اپنے کاروبار کا دوبارہ آغاز شروع کیا ہے۔