روشن پاکستان کے لیے ہزارہ بچوں کے خواب

- مصنف, صبا اعتزاز
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کھیل کود اور کھلونوں کی عمر میں بلوچستان کے ہزارہ قبیلے کے بچوں کو حالات سے مقابلہ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزارہ ٹاؤن کے واحد مارشل آرٹس اکیڈمی میں لڑکے اور لڑکیوں کا رش لگا رہتا ہے ـ
نچلی منزل پر ایک پانچ سالہ بچہ کراٹے چاپس کر رہا ہے اور توتلی زبان میں مجھے بھی سیکھانے کی کوشش کر رہا ہے ـ چھت پر تپتی دھوپ میں بڑے لڑکے اور لڑکیوں کی مارشل آرٹس مشق چل رہی ہے۔
ہزارہ ٹاؤن کے بچے یہاں مارشل آرٹس کا فن سیکھ کر خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط کرتے ہیں۔ مشکلات اور نہ ہونے کے برابر وسائل کے باوجود اس اکیڈمی کے کئی شاگرد بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی پہچان بن چکے ہیں۔

اکیڈمی کے استاد غلام علی کا دفتر ان بچوں کے جیتے ہوئے تمغوں اور ٹرافیوں سے چمک رہا ہے۔ لیکن غلام علی کے مطابق، جیت سے زیادہ، مارشل آرٹس ان بچوں کے لیے مایوسی سے لڑنے کا ہتھیار بھی ہے۔ غلام علی نے کہا کہ ’ہماری کمیونٹی میں تمام والدین اپنے بچوں کو کراٹے سیکھنے کے لیے یہاں بھیجتے ہیں تاکہ مشکل حالات میں یہ خود کا دفاع کر سکے اور ذہنی طور پر ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کی طاقت رکھ سکیں۔‘
پاکستان میں ہزارہ قبیلے کے لوگ گذشتہ کئی سالوں سے شدت پسندی کے واقعات کا نشانہ بنے رہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق دو لاکھ سے زائد ہزارہ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جبکہ پچھلے چند سالوں میں تقریبا 1200 ہزارہ عقیدے اور نسل کی بنیادوں پر ٹارگٹ ہوئے ہیں اور اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
ایسے غیر معمولی حالات سے قبیلے کی نئی نسل کو بچپن سے ہی سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔
غلام علی بتاتے ہیں کہ اکیڈمی میں ہر شاگرد کسی نہ کسی طرح سے شدت پسندی کے واقعات اور نسلی اور عقیدے کی بنیاد پر تعصب کا سامنا کر چکے ہیں اور اکیڈمی میں انہیں اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کا سہارہ بھی ملتا ہے۔

پانچویں جماعت میں پڑھنے والی 14 سالہ سمیرہ سید بھی یہاں مارشل آرٹس سیکھ کر غم اور غصے پر قابو پانے کی کوشش میں ہیں۔ دو سال قبل مبینہ دہشت گردی کے واقعہ میں ان کے والد کو گھر سے چند قدم کے فاصلے پر اغوا کر لیا گیاتھا۔ان کے مطابق کسی حکومتی ادارے نے ان کی مدد نہیں کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمانے والے والد کے جانے کے بعد اب ان کی والدہ خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں۔ آئے دن مالک مکان گھر خالی کرانے کی دھمکیاں دیتا ہے لیکن شعیہ ہزارہ ہونے کی وجہ سے نیا گھر ملنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ انہیں ایک چھوٹے سے علاقے میں محدود رہنا ہے۔ سمیرہ کی تنہائی کا احساس انہیں ڈپریشن کی طرف مسلسل دھکیلتا ہے لیکن اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور ماں کے خاطر یہ خود کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔ پھر بھی اپنی کہانی سناتے ہوئے آواز سسکیوں سے لرزتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہ رہے ہیں۔ ’ہماری کسی نے بھی مدد نہیں کی، کیونکہ ہم ہزارہ ہیں؟ میں کراٹے اس لیے سیکھتی ہوں تاکہ اپنے بہن بھائیوں کو محفوظ رکھ سکوں اور دنیا کو بتا سکوں کہ غریب لوگ اور لڑکیاں بھی کچھ کر سکتی ہیں، کمزور نہیں ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق گزشتہ سالوں میں ہزارہ قبیلے کی نوجوان نسل شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ اب بظاہر ان کی اپنی سیکورٹی کے لیے انہیں دو کیمپ نما علاقوں میں محدود کیا گیا ہے جس میں ایک ہزارہ ٹاؤن اور دوسرا کوئٹہ کی آخری حد پر بلکل پہاڑوں کے ساتھ سمٹا ہوا مری آباد کا علاقہ ہے۔
ان علاقوں کے باہر قبیلے کے لوگوں کے تمام کاروبار بند ہو چکے ہیں نہ ہی نوجوانوں کو کوئٹہ یونیورسٹی تک رسائی ہے۔ لوگوں نے ہمیں بتایا کے ان اقدامات سے وہ خود کو محصور محسوس کرتے ہیں اور شہر کی سماجی اور معاشی زندگی سے بلکل کٹ کر رہ گیے ہیں۔

اجتماعی گھٹن کے بڑھتے احساس کے باوجود یہاں کے نوجوانوں نے اپنی شناخت کھونے نہیں دی بلکہ اپنا آزادی اظہار کا حق انوکھے طریقوں سے استعمال کیا ہے۔
ایسے نوجوانوں میں سے <link type="page"><caption> ’ہزارہ پارکور بائیز‘</caption><url href="https://www.facebook.com/HazaraParkour?fref=nf" platform="highweb"/></link> بھی ہیں جو دنیا کے سامنے ہزارہ قبیلے کی متاثرین کی طرح عکاسی نہیں چاہتے۔ ہزارہ ٹاؤن کی مارشل آرٹس اکیڈمی سے تربیت یافتہ یہ بچے اپنے جمناسٹکس اور مارشل آرٹس کے مظاہروں سے سوشل میڈیا پر لوگوں کو دنگ کر چکے ہیں۔
پارکور ایک ایسا کھیل ہے جو کہ پوری دنیا میں سراہا جاتا ہے لیکن ان لڑکوں کو مقامی صطح پر کوئی حوصلہ افزائی نہیں ملی اور نہ ہی کوئی پلیٹ فارم ۔
ٹیم کے ایک رکن نعمت اللہ نظر نے کہا ’دنیا بھر میں سپورٹس نفرتوں کو مٹانے کا ایک زریعہ ہے لیکن بلوچستان میں ہم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پھر بھی ہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دو کیمپ نما علاقوں میں محدود ہونے کے باوجود ہم دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کریں گے۔







