کوئٹہ:زائرین کی بس پر خودکش حملہ، دو ہلاک

دھماکے سے بس میں آگ بھی بھڑک اٹھی
،تصویر کا کیپشندھماکے سے بس میں آگ بھی بھڑک اٹھی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شیعہ زائرین کی بس پر خودکش حملے میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز محمد جعفر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کی شام شہر کے مغربی بائی پاس پر پیش آیا۔

ان کے مطابق شیعہ زائرین کی ایک بس ایران سے واپس کوئٹہ آ رہی تھیں کہ اختر آباد کے علاقے میں مخالف سمت سے آنے والے حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی اس سے ٹکرا دی۔

ڈی آئی جی پولیس کے مطابق دھماکے سے بس میں آگ بھڑک اٹھی اور اس حملے میں حملہ آور اور بس میں سوار ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ 30 زخمیوں میں 12 خواتین اور چھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زائرین کی بس اور اس کی حفاظت پر مامور پولیس کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تصادم کی وجہ سے زائرین کی بس سڑک سے نیچے اتر گئی اور اسی وجہ سے جانی نقصان کم ہوا۔

بلوچستان میں 2013 میں شیعہ زائرین پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں 2013 میں شیعہ زائرین پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے

دھماکے کے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارکن اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو بولان میڈیکل ہسپتال منتقل کیا۔

تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

پاکستان میں شیعوں کی تنظیم مجلس وحدت المسلمین نے اس واقعے پر سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

صوبہ بلوچستان میں شیعہ برادری پر اس طرح کے حملوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے بھی کوئٹہ تافتان قومی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے میں ایران میں زیارتوں کے لیے کوئٹہ سے جانے والے یا ایرن سے واپس آنے والے زائرین پر کئی حملے ہو چکے ہیں جس میں سے زیادہ ترحملوں کی ذمہ داری کالعدم لشکرجھنگوی نے قبول کی ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں جن کے خلاف صوبے میں شیعہ برادری کئی بار احتجاجی مظاہرے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کر چکی ہے۔