بلوچستان میں چھ بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت نے ضلع قلعہ سیف اللہ میں مبینہ طور پر خسرے کی ویکسین لگنے کے بعد ایک ہی خاندان کے چھ بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
صوبائی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی ہلاکت ویکسین لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔
بلوچستان کے وزیرِ صحت رحمت بلوچ نے سنیچر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس’وائل‘ سے ان چھ بچوں کو دوا دی گئی تھی اس سے کل 25 بچوں کو ویکسین لگی اور باقی بچوں کی جانب سے کوئی شکایات سامنے نہیں آئی۔
وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ اگر ویکسین میں مسئلہ ہوتا تو باقی بچے بھی متاثر ہوتے لیکن اس کے باوجود بھی محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فاروق اعظم جان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
حکومت کے اس دعوے کے باوجود متاثرہ خاندان مصر ہے کہ یہ بچے خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگنے کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
ان بچوں کو دو روز قبل خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے تھے۔
سول ہسپتال کوئٹہ میں موجود اس حوالے سے متاثرہ خاندان کے ایک فرد کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ’ آٹھ بچوں کو جیسے ہی ٹیکے لگائے گئے تو20 سے 30 منٹ بعد انھیں الٹیاں آنی اور جھٹکے لگنے شروع ہوئے اور وہ بےہوش ہوگئے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
متاثرہ خاندان کے فرد کا کہنا تھا ’ویکسین لگنے کے بعد جب بچوں کی حالت غیر ہوگئی تو ان کو مقامی ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہاں علاج نہ ہونے کے باعث ان کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا ’ایک بچہ راستے میں دم توڑ گیا۔ رات کو ہم لوگ کوئٹہ آئے جہاں دوسرا بچہ وفات پا گیا جبکہ دو بچے گذشتہ روز اور دو رات کو وفات پاگئے۔‘
قلعہ سیف اللہ کی طرح کوئٹہ میں بھی ویکسین لگنے کے بعد دو بچوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔
سول ہسپتال کوئٹہ میں موجود ایک متاثرہ بچے کی والدہ کا کہنا تھا ’جب تک اس ویکسین کی جانچ نہیں کی جاتی کہ اس میں کیا مسئلہ ہے اس وقت تک ٹیکہ لگانے کا عمل روک دیا جائے۔‘
محکمۂ صحت کے حکام نے خسرے کی ویکسین سے بچوں کی ہلاکت کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کے خون کے نمونے ٹیسٹ کے لیے لیباریٹری بھجوا دیے گئے ہیں جن کے نتائج آنا باقی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فاروق اعظم جان کا کہنا تھا کہ مضرِ صحت کھانا ان بچوں کی موت کی وجہ ہوسکتی ہے۔
انھوں نے بتایا ’چونکہ بچے ایک گھرانے سے آئے اور ایک ہی جگہ سے آئے ہیں اور شکایت بھی ان کی ایک ہی ہے اور ان کی علامات بھی ایک جیسی ہیں جو فوڈ پوائزننگ کا خدشہ ظاہر کرتی ہیں اس لیے ویکسین سے ہلاکت کا الزام سراسر غلط ہے۔‘
ہلاک ہونے والے بچوں کے خاندان نے ڈائریکٹر جنر ل کے موقف سے اتفاق نہیں کیا، ان کا کہنا تھا ’سارا معاملہ ویکسین کا ہے، ویکسین لگنے سے قبل بچے کھیل رہے تھے یہ ابھی اپنے سر سے ذمہ داری ہٹانےکے لیے پوچھتے ہیں کہ آپ نے کیا کھلایا تھا۔‘
انھوں نے بتایا ’خاندان کے جن دو بچوں کو ویکسین نہیں لگی وہ ٹھیک ہیں۔ دونوں بچے کھیل رہے ہیں۔ یہ دونوں بچے ٹیکوں کی خوف کی وجہ سے بھاگ گئے تھے۔‘
بلوچستان میں طویل عرصے بعد 13 اپریل سے بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کی مہم شروع کی گئی ہے۔
26 اپریل تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران 35 لاکھ سے زائد بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے گی۔







