نوشہرہ میں پولیو کے قطرے نہ پلوانے پر گرفتاریاں

گذشتہ سال پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی تھی جو کہ پچھلے 14 سالوں میں ایک ریکارڈ تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی تھی جو کہ پچھلے 14 سالوں میں ایک ریکارڈ تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر 160 افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے 18 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ضلع نوشہرہ کی پولیس کے سربراہ رب نواز خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ضلع بھر میں حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران کئی علاقوں سے والدین نے اپنے بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا یا پولیو ٹیموں کو کام کرنے سے روکا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے اس سلسلے میں دفعہ 144 کے تحت تین مقدمات درج کیے ہیں جس میں 160 افراد کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر نامزد کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اب تک پولیس نے ان میں سے 18 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اس سے پہلے صوبے میں ضلع کوہاٹ اور کچھ دیگر اضلاع میں بھی ایسے ہی واقعات پر گرفتاریاں کی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہر پولیو مہم کے اختتام پر سینکڑوں ایسے معاملات سامنے آتے رہے ہیں جن میں والدین نے بچوں کو پولیو کے ویکسین دینے سے انکار کیا۔

اس سے پہلے کوہاٹ اور کچھ دیگر اضلاع میں بھی انسدادِ پولیو سے انکار پر گرفتاریاں کی گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشناس سے پہلے کوہاٹ اور کچھ دیگر اضلاع میں بھی انسدادِ پولیو سے انکار پر گرفتاریاں کی گئی تھیں

تاہم حکومت نے اب اس سلسلے میں سخت اقدامات کرتے ہوئے ایسے والدین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

حال ہی میں صوبائی محکمۂ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے کھل کر پولیو کی حمایت کرنے پر اب انکاری کیسز کی تعداد میں پہلے کے مقابلے میں کمی آرہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی تھی جو کہ پچھلے 14 سالوں میں ایک ریکارڈ تھا۔

پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ والدین کی جانب سے قطرے پلوانے سے انکار اور پولیو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اب تک سب سے زیادہ پولیو کے کیس قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں جہاں مذکورہ وجوہات کی بنا پر ہزاروں بچے پولیوکے قطرے پینے سے محروم رہے ہیں۔