’پولیو مہم میں قطروں کے ساتھ ٹیکے لگائے جا رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ قبائلی علاقہ جات کی تاریخ میں پہلی بار انسداد پولیو مہم میں قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔

فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان عدنان احمد خان کے مطابق گذشتہ پانچ روز سے پولیو کے خاتمے کے لیے پولیو ویکسین کے ساتھ انجیکٹیبل پولیو ویکسین یعنی آئی پی وی کی مہم کامیابی سے ایف آر بنوں میں جاری ہے۔ اس مہم میں مقامی بچوں کے علاوہ وہاں موجود ایسے بچے بھی شامل ہیں جو شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے یہاں رہائش پذیر ہیں۔

پولیوسے بچاؤ کی یہ ویکسین اور انجیکشن اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسیف کی جانب سے دی گئی ہے۔ اس مہم میں عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف حکومت پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

ایف ار بنوں میں بکا خیل اور بکا خیل میں آئی ڈی پیز کے کیمپ سمیت محمد خیل، خندار خان خیل، ذکری پیر باخیل، دریوبا، گربز، جانی خیل، سین تانگہ نندی خیل میں 17 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے اور ٹیکے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس میں 14 ہزار بچوں کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے۔

آج اس مہم کا آخری دن ہے۔ حکام کے مطابق اب تک کسی خاندان نے بچوں کو قطرے پلانے یا انجیکشن لگوانے سے انکار کیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں عالمی ادارہ یونیسف کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر بلال کا کہنا ہے کہ پولیو سے بچاؤ کےقطروں کے ساتہ ٹیکے لگانے کا مقصد بچوں میں قوت مدافعت بڑھانا ہے۔

تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ٹیکے لگائے جانا پولیو کے قطروں کا متبادل نہیں۔ جب تک ملک سے مکمل طور پر پولیو کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ویکسین کا عمل جاری رہے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل پاکستان میں ان انجیکشن کے لیے ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور ملک میں پہلی بار صوبہ بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے لیے ویکسین کے ساتھ انجیکشن بھی لگائے گئے تھے۔

وفاقی وزی برائے صحت سائرہ تاڑر کا کہتی ہیں ’2018 تک دنیا بھر سے پولیو ویکسین کا طریقہ کار ختم کر کے آئی پی وی سسٹم مستقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس عمل میں صوبائی حکومتیں کام کر رہی ہیں اور اگلے مرحلے میں خیبر ایجنسی اور کراچی میں مہم کا آغاز ہوگا۔‘

سائرہ افضل کے مطابق ’آئی پی وی کے لیے ٹیموں کو گھر گھر جانے کے لیے نہیں کہا جائے گا بلکہ ایک پوائنٹ بنایا جائے گا جہاں والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے انجیکشن لگوائیں گے۔‘

یاد رہے کہ 2014 میں حکومت پاکستان نے پولیو کے تدارک کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کا اعلان تو کیا تاہم اسی سال 5 مئی کو عالمی ادارہ صحت نے پولیو کو بین الاقوامی سطح پر ایمرجنسی قرار دیا اور پاکستان پر بین الاقوامی سفری پابندیاں عائد کی گئیں۔