پولیو: دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے قبائلی علاقوں میں پیر سے انسداد پولیو مہم کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔
اس مہم میں دو کروڑ چالیس لاکھ بچوں کو اس موذی مرض سے بچاؤ کے قطرے دیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو راضی کرنے کے لیے یونین کونسل کی سطح پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔
خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ یہ مہم صوبے میں صحت کے اتحاد مہم کا حصہ ہے۔
فاٹا اور خیبر پختونخوا کے لیے اس مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ساٹھ لاکھ بچوں کو اس مرض سے بچاؤ کے قطرے دیے جا رہے ہیں اور اس کے لیے آٹھ ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد سات لاکھ تک ہے لیکن جن علاقوں میں فوجی آپریشن جاری ہے یا اس آپریشن کے وجہ سے علاقے خالی ہیں وہاں یہ مہم نہیں کی جا رہی تاہم ان علاقوں کے قریب یا بے گھر افراد کے بچوں تک بھی رسائی کے لیے ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بتایا کہ ان ٹیموں کی حفاظت کے لیے ہر ضلع کی سطح پر سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں کہیں پولیس اہلکار ٹیموں کے ساتھ ہیں تو کہیں جن علاقوں میں ٹیمیں جاتی ہیں وہاں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے ۔
صوبہ پنجاب میں بھی انسداد پولیو کی تین روزہ مہم پیر سے شروع ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور سے نامہ نگار صبا اعتزاز نے بتایا پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق چالیس ہزار کے قریب موبائل اور فکسڈ ویکسینیشن ٹیموں کا انتظام کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ان بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں جائے گے جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے-
محکمہ صحت کے مطابق خصوصی پولیو ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں جو بس ٹرمینلز، موٹروے، ریلوے سٹیشن اور ایئر پورٹ کے مختلف مقامات ہر موجود ہوں گی -
اس کے علاوہ تمام گورنمنٹ ہسپتالوں اور ہیلتھ سینٹرز میں بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا انتظام کیا جا رہا ہے –
انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ذرائع ابلاغ پر بھی ایسے اشتہارات شروع کیے گئے ہیں جن میں والدین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور دیں

،تصویر کا ذریعہAFP
خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں ایسے والدین ہیں جو اپنے بچوں کو قطرے دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔|
ڈاکٹر امتیاز علی شاہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں مسلسل کوششوں سے اب انکاری والدین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔
پاکستان میں تین سالوں سے انسداد پولیو مہم کی ٹیموں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والی ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
گزشتہ سال پاکستان سے کوئی تین سو کے لگ بھگ بچے اس وائرس کا شکار ہوئے جس وجہ سے عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے ۔







