’اماراتی وزیر کا بیان پاکستانیوں کی عزتِ نفس کی ہتک ہے‘

 بین الاقوامی تعلقات کے تمام مروجہ اصولوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر کا بیان سفارتی آداب کے منافی ہے: چوہدری نثار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن بین الاقوامی تعلقات کے تمام مروجہ اصولوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر کا بیان سفارتی آداب کے منافی ہے: چوہدری نثار

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازعے میں پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ کی تنبیہ پاکستانی قوم کی عزتِ نفس کی ہتک کے مترادف ہے۔

اتوار کو ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک ستم ظریفی ہی نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کا ایک وزیر پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے پاکستانی پارلیمان میں یمن کے تنازعے پر غیر جانبدار رہنے کی متفقہ قرار داد منظور ہونے کے بعد جمعے کی شب ٹوئٹر پر اپنے بیانات میں اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ <link type="page"><caption> پاکستان کو اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/04/150411_uae_condemns_pakistan_on_yemen_zz.shtml" platform="highweb"/></link> اور پاکستانی کا موقف ’کاہلی پر مبنی غیرجانبدارانہ موقف کے سوا کچھ نہیں۔‘

ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا تھا کہ لگتا ہے کہ اسلام آباد اور انقرہ کے لیے خلیجی ممالک کی بجائے تہران زیادہ اہم ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر انور قرقاش نے کہا تھا کہ لگتا ہے کہ اسلام آباد اور انقرہ کے لیے خلیجی ممالک کی بجائے تہران زیادہ اہم ہے

اس معاملے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تو ردعمل دینے سے گریز کیا تھا تاہم وفاقی وزیرِ داخلہ نے اب کہا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے تمام مروجہ اصولوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر کا بیان سفارتی آداب کے منافی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں اور نہ صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات کے عوام کے لیے بھی برادرانہ جذبات رکھتی ہے۔

تاہم وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اماراتی وزیر کا بیان پاکستان اور اس کے عوام کی عزتِ نفس کی ہتک کے برابر ہے اور اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی پارلیمان نے جمعے کو متفقہ طو پر منظور شدہ قرارداد میں حکومت سے کہا تھا کہ<link type="page"><caption> پاکستان اس تنازعے میں غیرجانبدار رہے </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150410_yemen_pak_parliament_resolution_hk" platform="highweb"/></link>اور جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرے۔

پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے<link type="page"><caption> فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/04/150411_saudi_reaction_yemen_crisis_pak_resolution_hk" platform="highweb"/></link>۔