’پاکستانی فیصلے کا یمن میں جاری مہم پر اثر نہیں پڑے گا‘

اتحادی فوج کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اپنے علاقوں کی سرحدی نگرانی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشناتحادی فوج کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اپنے علاقوں کی سرحدی نگرانی جاری ہے

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عسکری مہم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن میں باغیوں پر بمباری کی مہم کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اگر پاکستانی فوج اس اتحاد میں شامل بھی ہوتی تو اس کا کردار مددگار کا ہی ہوتا۔

یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر سعودی کمان میں فوجی اتحاد کے طیاروں کی بمباری کا سلسلہ سنیچر کو بھی جاری ہے۔

یمنی فوج کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک فضائی حملے میں شمالی یمن میں حوثی کمانڈرز کا اجلاس نشانہ بنا ہے۔

شبوہ نامی صوبے میں حوثیوں اور ان کے حامی فوجیوں پر بمباری کی گئی ہے جو اس علاقے میں گذشتہ ایک ہفتے سے پیش قدمی کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ عدن میں بھی لڑائی مسلسل جاری ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس اور بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے 32 ٹن خوراک، پانی اور طبی سامان یمن پہنچا دیا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں موجود نامہ نگار کم غطاس کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو بمباری کے باوجود حوثی باغیوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق سعودی بمباری کے باوجود حوثی باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سعودی عرب صرف زمینی کارروائی سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتا ہے اور ایسی صورتحال میں پاکستان کا غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ سعودی عرب کے لیے ایک دھچکا ہے۔

سعودی فوج کے مطابق صنعا میں میونسپل کمپلیکس کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ حوثی باغی وہاں اپنے ہتھیار ذخیرہ کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسعودی فوج کے مطابق صنعا میں میونسپل کمپلیکس کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ حوثی باغی وہاں اپنے ہتھیار ذخیرہ کر رہے تھے

اس سے قبل یمن میں برسرپیکار عسکری اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اسیری نے جمعے کی شام پریس کانفرنس میں یمن میں پاکستان کے غیرجانبدار رہنے کے فیصلے کے حوالے سے کہا تھا کہ ابھی پاکستان نے سرکاری طور پر اپنے فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انھوں نے پاکستانی فوج کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوج اپنی مستعدی اور ہنرمندی کی وجہ سے معروف ہے اور اتحاد میں ان کی شمولیت ایک کریڈٹ ہوگا۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے اتحاد میں شامل دیگر ممالک کی صلاحیتوں کا درجہ کم کرنا مقصود نہیں

بریگیڈیئر جنرل اسیری کا کہنا تھا کہ صدہ، عمران اور دعن کے قرب و جوار میں حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انھوں نےتصدیق کی تھی کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنے علاقوں کی سرحدی نگرانی جاری ہے اور حوثی باغیوں کے خلاف زمینی آپریشن بھی کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ریڈکراس اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ یمن کے متاثرہ علاقوں میں عوام اور ہسپتالوں تک انھیں رسائی دی جا سکے۔

سعودی بمباری کے باوجود حوثی باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسعودی بمباری کے باوجود حوثی باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے

بریگیڈیئر اسیری نے یہ بھی کہا کہ اس آپریشن کا ہدف انفراسٹرکچر کی تباہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حوثی ملیشیا سکولوں، کھیل کے سٹیڈیمز اور سول اداروں میں اسلحے کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ صنعا میں میونسپل کمپلیکس کو ان کی جانب سے اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ حوثی باغی وہاں اپنے ہتھیار ذخیرہ کر رہے تھے۔

یمن میں سعودی عرب کی مداخلت پر پاکستانی پارلیمان کی جانب سے جمعے کے روز ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے گا اور کوشش کرے گا کہ سلامتی کونسل اور او آئی سی کے ذریعے جنگ بندی کی جا سکے۔

یاد رہے کہ سعودی حکومت نے 25 مارچ کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں اس نے پاکستان سے بّری، بحری اور فضائی تعاون مانگ رکھا ہے۔