پاکستان یمن کے تنازع میں غیرجانبدار رہے، پارلیمان کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستانی پارلیمان نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں اتحاد کی عسکری کارروائی میں شمولیت کی سعودی عرب کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد میں کہا ہے کہ ملک کو اس تنازعے میں اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔
جمعے کو متقفہ طور پر منظور کی گئی ایک قرارداد میں کہاگیا ہے کہ پاکستان یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں سرگرم سفارتی کردار ادا کرے۔
سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں بّری، بحری اور فضائی تعاون اور مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے چھ اپریل کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا۔
اس اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے پانچ روز تک یمن کی صورت حال میں پاکستان کے متوقع کردار پر بحث کی جس کے بعد جمعے کو وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے 12 نکات پر مشتمل قرارداد ایوان میں پیش کی۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ یہ قرارداد ایوان میں موجود جماعتوں کے نمائندوں کے اتفاق ِرائے کے بعد تیار کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان سمجھتا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں تاہم اس کے فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہیں جس کے پاکستان سمیت خطے میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
قرارداد میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان یمن کے معاملے پر غیر جانبدار رہے اور وہاں فوری جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی میں کردار ادا کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس عزم کو بھی دہرایا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت یا حرمین شریفین کو کسی قسم کے خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورت حال میں ’واضح طور پر سعودی عرب کی حمایت کی جائے گی اور یہ تائید کی جاتی ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور حرمین شریفین کو کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب اور اس کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔‘
پاکستانی پارلیمان کے ارکان نے یمن میں پھنسے افراد کی مشکلات اور وہاں کی سکیورٹی صورت حال اور اس کے خطے کی سلامتی اور امن پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یمن کی صورت حال پورے خطے میں شورش پھیلنے کا باعث بن سکتی ہے اور یہ ایوان وہاں بحالیِ امن کے لیے کی جانے والی علاقائی اور عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
اس کے علاوہ پارلیمان نے یمن میں قیام امن کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں کے جاری رہنے اور مسلم ممالک کے تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
قرارداد میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ یمن میں موجود گروہ اپنے اختلافات پرامن طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے جبکہ بین لاقوامی برادری اور مسلم امّہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یمن میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔
متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے یمن سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا گیا اور خصوصاً ہمسایہ ملک چین کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
ادھر پارلیمان کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو جنگ سے بچانا ان کے ساتھ تعاون ہے اور دوستی کا تقاضا بھی یہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ کی طرف دھکیلنے سے سعودی عرب کا بھی نقصان، یمن کا بھی نقصان عالمِ اسلام کا بھی نقصان ہوگا اور ہم نہیں چاہتے کہ کسی سازش کے نتیجے میں امن کا آخری قلعہ سعودی عرب مشکل کا شکار ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یمن کی جنگ کو مسلک کی لڑائی نہیں بنانا چاہیے اور ضرورت پڑے تو تمام فریقین کو بھی بات چیت کے لیے بیٹھنا چاہیے۔
جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا کہ یمن کے بحران کے حل میں حوثی باغیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے چھ ماہ قبل کی صورتحال پر جانا ہوگا اور موجودہ پوزیشن میں شاید مفاہمت میں کامیابی نہیں مل سکے گی۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایران نے باضابطہ طور پر ایسا نہیں کہا کہ وہ حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے یا انھیں مدد فراہم کرےگا اس لیے خطے میں امن کے لیے اسے بھی بات چیت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔







