’یمن کی جنگ دو فرقوں کی جنگ ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بحث کے دوران کسی ایک بھی رکن نے اس بات کی حمایت نہیں کی ہے کہ یمن میں فوجی کارروائی کے لیے پاکستان کی فوج کو سعودی عرب بھیجا جانا چاہیے۔
بدھ کو ایوان میں بحث کے دوران سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سعید غنی نے یمن کی صورت حال پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ یمن میں ہونے والی جنگ دو گروپوں کی نہیں بلکہ دو فرقوں کی جنگ ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر عجلت میں پاکستانی حکومت نے سعودی عرب فوج بھیجنے یا فرقے کی بنیاد پر اس جنگ میں کسی کا فریق بننے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کو ایران کے ساتھ بارڈر کو محفوظ بنانے کے لیے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو اپنے ملک میں ہی اس تاثر کو ذائل کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ پہلے ہی بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد پر اور مغربی سرحد میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں لاکھوں پاکستانی فوجی برسرپیکار ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ یمن کی صورت حال اور سعودی عرب میں فوج بھجوانے کو وزیر اعظم نے حساس معاملہ قرار دیا لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بھی طلب نہیں کیا گیا جس سے حکومت کی اس معاملے پر سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شریں مزاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور غیروں کی جنگ میں کسی کا فریق بن کر اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو یمن میں دو گروپوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر شریں مزاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اُمت مسلمہ کے ساتھ ملکر یمن کے مسلئے کا پرامن حل نکالنے کے لیے کوششیں کرنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے سینیٹر الیاس بلور کا کہنا ہے کہ اسلامی ملکوں کے درمیان تعاون کی تنظیم اب بے اثر ہوچکی ہے ۔ اُنھوں نے کہا اس تنظیم کی طرف سے یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے اور یمن کے گروپوں کے درمیان جنگ بندی کروانے کے لیے بھی ابھی تک کوئی کردار ادا نہیں کیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ اُنیس سو نواسی میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی پاکستان کے لوگ اس جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ الیاس بلور کا کہنا تھا کہ اس جنگ کو جہاد کا نام دیا گیا جبکہ اصل میں یہ ایک فساد تھا جس کا خمیازہ پاکستانی عوام آج تک بھگت رہی ہے۔
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے سینٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ہمیں اس جنگ میں کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے پہلے وہاں کے حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
اُنھوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ جـنرل عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ملکی مفاد کو سب سے مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔
یمن کی صورت حال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل بھی جاری رہے گا۔







