کیا یمن میں القاعدہ پھر سر اٹھا رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی، مشرق وسطیٰ
یمن میں حوثی باغیوں اوران کے اتحادیوں پر دو ہفتوں سے لگاتار سعودی عرب کی بمباری کے بعد ملک کا خطرناک ترین گروہ اسے اپنی کامیابی تصور کر رہا ہے۔
اگر حوثیوں نے یمن کے نصف سے زیادہ حصے پر قبضہ کر لیا ہے تو دوسری جانب جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اپنا اثرورسوخ بڑھاتے ہوئے مزید علاقوں، شہروں اور اسلحے پر قبضہ کر رہی ہے۔
ان کے لیے اس سے پہلے اتنا بہتر وقت کبھی نہیں رہا۔
امریکی انٹیلی جنس ادارے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو دنیا بھر میں القاعدہ کی دیگر شاخوں سے زیادہ خطرناک تصور کرتے ہیں کیونکہ ماضی میں وہ مغرب کی جانب پرواز کرنے والے ہوائی جہازوں میں بم سمگل کر چکے ہیں۔
ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن سے منسلک دہشت گردی کے موضوع کے ماہر ڈاکٹر سجن گوہل کہتے ہیں: ’یمن میں حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوئے ہیں۔‘
’یمن میں اندورنی تصادم کے باعث جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو موقع ملا ہے کہ وہ جیلیں توڑ سکیں، قیدیوں (جہادیوں) کو آزاد کروا سکیں اور اپنی تعداد میں اضافہ کر سکیں۔‘
ایسا اب ناقابل یقین دکھائی دیتا ہے۔ محض چند ماہ پہلے امریکی صدر براک اوباما نے القاعدہ کے خلاف امریکہ یمن اشتراک کو انسداد دہشت گردی کے تناظر میں مثالی قرار دیا تھا۔
سعودی عرب اور یمن کی زمینی انٹیلی جنس اور امریکہ کی سیٹلائٹ نگرانی نے سی آئی اے کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ملک کے جنوب اور مشرق کے دور دراز حصوں میں ڈرونز کے ذریعے ان اہداف کو نشانہ بنا سکیں جہاں تک اکثر اوقات یمنی فوج رسائی حاصل نہیں کر سکتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
بغیر پائلٹ اڑان بھرنے والے ریپرز اور پریڈیٹر سعودی عرب، یمن اور جبوتی سے پرواز کرتے تھے، اور ان کی وجہ سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ گروہ کے رہنما مسلسل نشانے پر رہتے، جس کے باعث وہ کسی ایک جگہ قیام اور بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے تھے۔
تاہم ڈرون حملوں میں بہت سارے یمنی عام شہریوں بھی ہلاک ہوئے اور اس سے مقامی قبائل ناراض بھی تھے۔
آج بدترین حالات کے دوران ڈرون حملے دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں تاہم انھیں زمینی مدد حاصل نہیں ہو گی۔
امریکہ کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو اس کے حال پر چھوڑ دے، ایسا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے یا پھر ڈرون حملے جاری رکھے جس سے عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ زیادہ بڑھ جائے گا۔
یمن میں حالات معمول پر آنے کے بعد امریکہ کو بطور سپرپاور نئے اتحادیوں کی ضرورت بھی پیش آئے گی۔
تاہم فی الوقت یمن میں جنگ کی صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
سعودی عرب کی تمام تر توجہ شیعہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کو شکست دینے پر مرکوز ہے یا کم از کم انھیں بمباری کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہے۔
یمن میں ان کے دوسرے دشمن القاعدہ کی اہمیت ثانوی ہے، اگرچہ سعودی مشیر کا کہنا ہے کہ وہ انھیں بھولے نہیں ہیں۔
تاہم سعودی ملک کے نصف سے زائد حصے پر قبضہ کرنے والے حوثیوں باغیوں کا قبضہ چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، حوثیوں کے بارے اس کا کہنا ہے کہ ایران ان کو مدد فراہم کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ملک کے بیشتر حصوں پر قابض حوثی خود کو سخت مغرب مخالف کہتے ہیں۔
ان کا نعرہ جو ان کے مظاہروں کے دوران دیکھا گیا اس میں ’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد۔ یہودیوں پر لعنت۔ اسلام کی فتح‘ جیسے الفاظ شامل تھے۔ چنانچہ اب امریکہ اوریمن کے مابین اشراک کی زیادہ امید نہیں کی جا سکتی۔
اصل ’پاور بروکر‘ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح ہیں۔
سنہ 2013 میں عرب سپرنگ نامی مظاہروں کے دوران انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، وہ ملک چھوڑ کر کبھی نہیں گئے اور یمنیوں کا کہنا ہے وہ تاحال یہ سمجھتے ہیں وہ ان کے بغیر مقابلہ نہیں کر سکتے۔
سابق صدر صالح 35 سال تک یمن کے حکمران رہے اور اب بھی یمن کی پولیس اور فوج میں کسی حد تک ان کے حامی موجود ہیں۔
انھی کی مدد سے حوثی باغی ملک کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
برسوں تک انسداد دہشت گردی میں وہ واشنگٹن کے بااعتماد اتحادی رہے ہیں۔
سنہ 2012 میں یمن میں ہونے والے پہلا ڈرون حملہ ان کی اجازت سے ہوا تھا۔
اس وقت سے امریکہ کے سپیشل فورسز کے تربیت کار یمن میں آتے رہے اور القاعدہ کے خلاف یمن کی سپشل فورسز کے ساتھ مشاورت اور ان کی تربیت کرتے رہے۔
آج انھی یمنی فورسز کے کچھ حصے امریکہ کے سعودی فضائیہ کو فراہم کردہ میزائلوں سے نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ یمن کی پیچیدہ صورت حال کا ایک رخ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جنوب کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے مقامی باشندوں نے ہتھیار اٹھائے اور ان میں سے بیشتر غیرتربیت یافتہ ہیں، جنھوں نے زندگی میں پہلی بار ہتھیار اٹھائے ہیں۔
جس کے باعث القاعدہ کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ ملک کے مشرقی حصوں میں نئی مزاحمت کا آغاز کر سکیں۔
انھوں نے بحرہند کے ساحل پر واقع بندرگاہ المکلا پر کسی حد تک قبضہ کر لیا ہے اور عدن میں بھی قدم جما رہے ہیں۔ وہ ماضی میں ایک سے زیادہ مرتبہ دارالحکومت صنعا میں خودکش حملے کر چکے ہیں۔
اپنے مسلکی دشمن شیعہ حوثیوں کے اقتدار میں آنے سے القاعدہ کی جانب سے حملوں کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ سنی قبائل کو استعمال کر سکتے ہیں۔
القاعدہ کے دو ایجنڈے ہیں۔ پہلا یہ کہ مقامی سطح پر یمن کی حدود کے اندر حکومت کو نشانہ بنانا، عسکری طاقت مضبوط کرنا اور قبائل کی حمایت حاصل کرنا۔
دوسرا بین الاقوامی ایجنڈا ہے جو امریکہ اورلندن کے لیے باعث تشویش ہو سکتا ہے۔
سعودی انجینیئر ابراہیم العصری کی بم بنانے کی صلاحیت کے باعث، جزیرہ نما عرب میں القاعدہ میں ٹیکنیشنز کا چھوٹا گروہ بھی مغربی ممالک کی جانب پرواز کرنے والے جہازوں میں بم سمگل کرنے کے خدشات موجود ہیں۔
اب جبکہ القاعدہ پر دباؤ کسی حد تک کم ہو چکا ہے تو یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان کے بم سازوں کو طویل المدت منصوبہ بندی کے لیے وقت مل گیا ہے۔







