ویران عدن ایک ’گوسٹ‘ شہر ہے

،تصویر کا ذریعہepa
یمن کے شہر عدن میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنگ نے اس کو ایک ’گوسٹ شہر‘ یعنی بھوت نگری بنا دیا ہے۔
رابرٹ گوسن نے کہا کہ شہر میں ہنگامی بنیادوں پر طبی سامان کی ضرورت ہے۔ پیر کو یمن جانے والی ایک امدادی پرواز کو انتظامی مسائل کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔
عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ ابھی تک جنگ میں 540 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں یمن میں مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔
ان میں سب سے اہم حوثی قبائل اور ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینے والے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی ہے۔
یمن کے دارالحکومت صنعا کے جنوب سے پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی باغیوں نے عدن کا محاصرہ کر رکھا ہے اور دو ہفتے سے اس کے ردِ عمل میں حوثیوں پر سعودی فضائی حملے جاری ہیں جس کی زد میں عام شہری بھی آئے ہیں۔
گوسن نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے لوگ ہسپتالوں میں مردہ حالت میں لائے جاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں ہی مر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
انھوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مناسب طبی سامان اور درست عملہ نہیں ہے۔ لوگ کہیں بھی نظر نہیں آتے، وہ چھپے ہوئے ہیں۔ معیشت بالکل رک چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گلیاں کوڑے کرکٹ اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے بھر چکی ہیں۔
گوسن نے کہا کہ ’شہر ایک دوسرے سے لڑائی کرتے ہوئے مختلف گروہوں کے مسلح افراد سے بھرا پڑا ہے۔ یہ ایک بڑا شہر ہے اور اس میں کوئی بھی چیز کام نہیں کر رہی۔‘
سعودی عرب کے فضائی حملے پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ حملے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں کم از کم 74 بچے شامل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اب تک اس لڑائی میں 1,700 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
آئی سی آر سی نے اس سے پہلے عدن میں 24 گھنٹے کی جنگ بندی کے لیے کہا تھا، جبکہ روس نے بھی سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فضائی حملوں کو روکنے کی حمایت کرے۔
سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے آئی سی آر سی کے طبی سامان اور عملہ لے جانے والے جہازوں کو وہاں اترنے کی اجازت دی ہے۔
مسافروں کو لے جانے والا طیارہ تو پیر کو بحفاظت اتر گیا لیکن سپلائی لے جانے والا طیارہ سکیورٹی کے تحفظات کی وجہ سے ابھی تک نہیں اتارا جا سکا۔
دو ہفتے قبل صدر ہادی کو یمن چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی تھی۔
حوثی قبائل نے کہا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور وہ اس پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔
ان کی حمایت سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثی قبائل کو ایران کی فوجی حمایت حاصل ہے لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے۔







