’عدن میں شدید لڑائی، مکلا سے سینکڑوں قیدی فرار‘

حوثی باغی جنھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کی مدد بھی حاصل ہے، عدن میں آگے بڑھے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحوثی باغی جنھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کی مدد بھی حاصل ہے، عدن میں آگے بڑھے ہیں

یمن کے شہر عدن کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حوثی باغیوں اور صدر عبدربہ منصور ہادی کی حمایتی ملیشیا میں جاری لڑائی میں شدت آگئی ہے اور شہر سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔

حوثی باغیوں نے شہر پر شدید گولہ باری کی ہے اور وہ حکومتی افواج کے زیرِ اثر علاقوں میں پیش قدمی کے لیے ٹینک اور بکتربند گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم جمعرات کی صبح سعودی کمان میں کارروائی کرنے والے اتحادی طیاروں کی بمباری کے بعد اطلاعات کے مطابق کچھ علاقوں میں ان کی پیش قدمی رکی ہے۔

ادھر جنوب مشرقی یمن میں حضرالموت نامی صوبے سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جہاں شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے ایک جیل پر حملہ کر کے ایک اہم رہنما سمیت سینکڑوں قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے۔

قیدیوں کے فرار کا واقعہ صوبائی دارالحکومت المکلا میں جمعرات کو پیش آیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیل پر حملے کے دوران دو محافظ اور پانچ قیدی مارے بھی گئے ہیں۔

یمن میں جاری لڑائی میں تیزی آنے کے ساتھ ہی وہاں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں خدشات بھی سامنے آئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیمن میں جاری لڑائی میں تیزی آنے کے ساتھ ہی وہاں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں خدشات بھی سامنے آئے ہیں

سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں میں القاعدہ کی جزیرہ نام عرب شاخ کے رہنما خالد بطارفی بھی شامل ہیں، جو چار سال سے زیادہ عرصے سے قید تھے۔

خالد بطارفی القاعدہ کے مرکزی علاقائی کمانداروں میں شامل ہیں اور فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انھوں 12- 2011 میں یمنی فوج کے ساتھ لڑائی میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔

یمن میں جیلوں پر حملہ کر کے قیدیوں کو رہا کروانے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں اور یہ حملے القاعدہ کے جنگجو ہی کرتے رہے ہیں۔

عدن میں شدید لڑائی

عدن میں حوثی باغی جنھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کی مدد بھی حاصل ہے، عدن میں آگے بڑھے ہیں اور شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کی بیشتر گلیوں میں لاشیں پڑی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں سے اکثر حوثی نشانہ بازوں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں جو شہر کی عمارتوں کی چھتوں پر مورچہ بند ہیں۔

جمعرات کو بھی سعودی کمان میں کارروائی کرنے والے اتحادی طیاروں کی بمباری جاری رہی

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنجمعرات کو بھی سعودی کمان میں کارروائی کرنے والے اتحادی طیاروں کی بمباری جاری رہی

سکیورٹی کے امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ اگر باغیوں کے ٹینکوں کی یمن کے اس ساحلی شہر میں داخلے کی خبریں درست ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باغیوں نے اب یمن کے اہم ترین علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔

یمن میں جاری لڑائی میں تیزی آنے کے ساتھ ہی وہاں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بدھ کو عدن میں لڑائی کے دوران 19 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی جن میں سے چھ عام شہری تھے۔

اس کے علاوہ بدھ کو ہی حدیدہ نامی شہر میں ایک کارخانے میں دھماکے سے کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے۔

اس دھماکے کی وجہ کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عمارت کو اتحادی طیاروں نے نشانہ بنایا جس کے بعد اس میں آگ لگی اور یہ منہدم ہوگئی۔

یمن میں جاری تنازع کی وجہ سے وہاں سے شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہMUHAMMAD WAZIER HIDAYAT

،تصویر کا کیپشنیمن میں جاری تنازع کی وجہ سے وہاں سے شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے

امدادی ادارے میڈیسن سان فرنتیئرز( ایم ایس ایف) کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عدن میں ادارے کے ہسپتال میں گذشتہ دو ہفتے میں 500 سے زیادہ زخمی لائے گئے۔

میری الزبتھ انگریس کا کہنا تھا کہ زیادہ تر افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے جبکہ کچھ کو بم دھماکوں کے نتیجے میں ٹکڑے لگنے سے زخم آئے تھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی زیرِ قیادت دس ممالک کے اتحاد نے یمن کے صدر عبدربہ ہادی منصور کی درخواست پر 22 مارچ کی شب سے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی تھی۔

یمن میں جاری تنازع کی وجہ سے ملک سے شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق تعز سے درجنوں افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خلیج عدن عبور کر کے صومالیہ اور جبوتی گئے ہیں۔