’یمن میں بحران مذاکرات واحد حل‘

یمن کے صدر عبدربہ ہادی منصور سعودی عرب میں پناہ لیے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیمن کے صدر عبدربہ ہادی منصور سعودی عرب میں پناہ لیے ہوئے ہیں

سعودی عرب کے فرماروا سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے حوثی قبائل پر فضائی بمباری کرنے کا فیصلہ سعودی شاہی خاندان کی طرف سے چار سال قبل عرب ممالک میں آنے والی انقلابی لہر کے بعد خارجہ پالیسی کا اہم ترین فیصلہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے ڈیڑھ لاکھ فوج کی جنوبی سرحد پر دفاع کی غرض سے لام بندی کر لی ہے لیکن اس نے واضح طور پر یمن میں فوجی مداخلت کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔

زمینی فوج کو یمن بھینجنے کا موقع آئے گا یا نہیں ابھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن سعودی عرب نے حوثی قبائل کے خلاف فضائی بمباری شروع کر کے ایران کے ساتھ جاری مخاصمت کو ڈرامائی انداز میں کئی درجہ بڑھا دیا ہے اور اس میں لبنان، مصر، عراق اور بحرین بھی ملوث ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے اہم فیصلے عمومی طور پر سعودی شہزادوں کے درمیان اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں اور یمن کوئی استثنیٰ نہیں۔

سعودی عرب کے سابق فرماروا شاہ عبداللہ اگر زندہ ہوتے تو بھی یمن کی صورت حال پر ان کا رد عمل مختلف نہ ہوتا۔

اس امر کے باوجود یمن کی صورت حال شاہ سلمان کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں کیونکہ اگر سعودی عرب یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کو اقتدار پر بحال نہ کرسکا تو اس کے لیے یہ ایک بڑی شرمندگی کا باعث ہو گا۔

ناکامی کی سوچ بھی محال ہے، خاص طور پر نئے بادشاہ کے چونتیس سالہ بیٹے پرنس محمد بن سلمان کے لیے جن کے ہاتھوں میں اس وقت دفاع کا قلمدان ہے۔

ایک لمبے عرصے تک یمن پر قبضہ مالی اور ممکنہ جانی نقصانات کے لحاظ سے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک لمبے عرصے تک یمن پر قبضہ مالی اور ممکنہ جانی نقصانات کے لحاظ سے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے

اس جوان سال شہزادے کے لیے صورت حال بڑی کٹھن ہے۔

ان کے رشتے کے بھائی شہزادہ خالد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود نے سنہ دو ہزار نو میں یمن میں ایک آپریشن شروع کیا تھا جس کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہ ناکام ہو گیا تھا۔ اس کے بعد دفاع کا قلمدان ان سے لے لیا گیا اور ان کو اہم قلمدان ملنے کے امکانات معدوم ہو گئے۔

گو پرنس محمد بن سلمان کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اگر ان کے عمررسیدہ والد کی موت واقع ہو جائے تو اس صورت میں سعودی دربار کی سیاست میں یمن میں ان کی ناکامی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائےگا۔

یمن سے فرار ہو کر سعودی عرب پہنچنے پر صدر ہادی کا شہزادہ محمد نے خود استقبال کیا۔

اس بات کے امکان کم ہے کہ سعودی عرب اپنے آپ کو کسی طویل بحران میں الجھانا چاہتا ہے۔

سنہ انیس سو چونتیس سے لے کر آج تک یمن میں داخل ہونے والے سعودی فوجیوں کے لیے یہ کام کبھی آسان نہیں رہا۔

سعودی فوجوں کے لیے رسد اور کمک کے راستے کھلے رکھنا ہمیشہ ہی مشکل رہا ہے اس کے علاوہ یمنی لوگ اپنے ملک کے سنگلاخ اور پتھریلے علاقوں کو سعودیوں سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔

اگر حوثیوں کی شورش کو کچل بھی دیا جاتا ہے تو بھی ایک لمبے عرصے تک یمن پر قبضہ مالی اور ممکنہ جانی نقصانات کے لحاظ سے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ سعودی عرب فوجی طاقت کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

فضائی حملوں کے ذریعے حوثیوں کو شکست دینا ممکن نہیں ہے اور طویل عرصے تک زمینی کارروائی کرنے سے سعودی عرب کی عسکری قوت کمزور پڑ جائے گی۔

حوثیوں نے سعودی فوجی کارروائی کے خلاف ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہap

،تصویر کا کیپشنحوثیوں نے سعودی فوجی کارروائی کے خلاف ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے

اب تک کے فضائی حملوں میں اسلحہ بارود کے ذخائر اور حوثی رہنماوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ریاض سے موصول ہونےوالے اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب پر امن حل چاہتا ہے جس میں صدر ہادی حوثیوں سمیت مختلف حلقوں کو شامل کر کے ایک منصفانہ آئینی حل تلاش کریں۔

اس آئینی حل میں صوبوں کی منصفانہ تقسیم اور ممکنہ زیادہ اختیارات خاص طور پر ان جنوبی علاقوں کو جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ علیحدگی کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔

مزید براں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا سعودی عرب یمن میں اس امید پر کسی حل کی تلاش میں ہے کہ اس کا اثر خطے کے دوسرے ملکوں پر بھی پڑے گا۔

مثال کے طور پر یمن میں ایک ایسا معاہدہ جسے حوثی مبجوراً قبول کرلیں اور پھر اس کو شام میں ایرانیوں کے خلاف استعمال کیا جائے تاکہ صدر اسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا جا سکے اور بغداد میں بھی سنی اثر ورسوخ والی حکومت قائم ہو سکے۔

یہ ایک مشکل کام ہو گا لیکن خطے کی موجودہ صورت حال میں سعودی عرب چاہے گا کہ وہ ایران اور اس کے حامیوں پر جتنا دباؤ بھی بڑھا سکیں اتنا ہی اچھا ہے۔

خطرہ یہ ہے کہ یمن میں اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو یہ خطے کی بڑی طاقتوں کو اس میں گھسیٹ لے گا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنخطرہ یہ ہے کہ یمن میں اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو یہ خطے کی بڑی طاقتوں کو اس میں گھسیٹ لے گا

یمن کے بارے میں ایران کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ وہ کوئی طویل بحران نہیں چاہتا بلکہ وہ ایک ایسا سیاسی حل چاہتا ہے جس میں حوثیوں کو بھی پالیسی سازی میں جگہ حاصل ہو۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا تو ایران کے سخت گیر عناصر یہی چاہیں گے کہ سعودی عرب یمن میں ایک ایسے بحران میں الجھا رہے جس کے حل ہونے کی کوئی امید نہ ہو۔

ایران حوثیوں کو بہت محدود سفارتی اور عملی مدد فراہم کر رہا ہے لیکن سعودی عرب کے رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے سعودیوں کو ہلا کر رکھا دیا ہے۔ سعودی عرب کو شام میں ایرانیوں کو ہاتھ ڈالنے پر مجبور کرنے پر اسے کہیں زیادہ وقت اور وسائل صرف کرنا پڑے تھے۔

حوثیوں نے سعودی فوجی کارروائی کے خلاف ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ایک ایسے بحران کے جس میں فریقین سیاسی حل پر زور دے رہے ہیں لمبے عرصے تک چلنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

لیکن حوثی پسپا ہونے پر تیار نہیں ہیں۔

حوثیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے ٹی وی پر نشر ہونے والی اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ بیرونی حملہ آووروں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

گو کہ حوثی سخت بیانات دے رہے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہ یمن کے وسیع علاقوں میں لوگوں کی حمایت نہیں رکھتے اور خاص طور پر شمال مشرق اور جنوب مغربی حصوں میں۔

لہذا حوثی چاہیں یا نہ چاہیں انھیں کسی سمجھوتے پر پہنچنا ہو گا۔

خطرہ یہ ہے کہ یمن میں اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو یہ خطے کی بڑی طاقتوں کو اس میں گھسیٹ لے گا اور القاعدہ اور دولت اسلامیہ جیسی انتہا پسند تنظیموں کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

اس طرح کی صورت حال سے بچنے کا انحصار جھگڑے میں ملوث تمام عناصر پر ہے۔

اگر شام سے کوئی سبق حاصل کیا جائے تو جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جنگ میں شریک تمام قوتوں کو یہ احساس نہیں ہو جاتا کہ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور مذاکرات اور سمجھوتے سے ہی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔