’حوثیوں کی پیش قدمی رکتے ہی فضائی حملے رک جانے چاہییں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے لگاتار دوسری رات بھی یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
جمعرات کی شب ہونے والے حملوں میں دارالحکومت صنعا، حجہ اور مارب کے شہروں میں باغیوں کی عسکری پوزیشنوں پر بمباری کی گئی۔
ان حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
ادھر یمن کے وزیرِ خارجہ ریاض یاسین کا کہنا ہے کہ ملک میں حوثی باغیوں کی جارحیت روکنے کے لیے کارگر فضائی حملے درکار ہیں لیکن انھیں باغیوں کی پیش قدمی رکتے ہی ختم ہو جانا چاہیے۔
حوثی قبائلیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے سعودی حملوں کو مجرمانہ جارحیت قرار دیا ہے۔
مصر کے شہر شرم الشیخ سے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے یمنی سرزمین پر فضائی حملے جتنا جلدی ممکن ہو، ختم ہونے چاہییں۔
بی بی سی کی اورلا گیورین سے بات کرتے ہوئے یمنی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر ان حملوں کے مطلوبہ نتائج نکلتے ہیں اور حوثی باغیوں کی پیش قدمی رک جاتی ہے تو یہ بمباری دنوں بلکہ گھنٹوں میں رک سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ملک میں اس غیر ملکی عسکری کارروائی سے کوئی بھی خوش نہیں لیکن یمن کو ایران نواز حوثیوں کی جارحیت روکنے کے لیے اپنے ہمسایوں کی مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا تاکہ انھیں دھچکا پہنچایا جا سکے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی تھی۔
یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت صنعا اور تعز میں جمعرات کے دن فضائی حملوں میں کم از کم 13 عام شہری مارے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں ریاض یاسین نے کہا کہ ان کے پاس اب تک ہونے والے حملوں میں کسی یمنی شہری کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو اس کے ذمہ دار باغی ہوں گے جنھوں نے یہ بحران پیدا کیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اگر فضائی حملے باغیوں کی پیش قدمی نہ روک سکے تو کیا عرب رہنما زمینی فوج یمن بھیجنے پر تیار ہوں گے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رہیں گے لیکن وہ ابھی وہاں زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
جمعرات کو جنگی جہازوں نے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو دوبارہ نشانہ بنایا اور دارالحکومت صنعا کے شمال میں سابق صدر کے حامی فوجیوں کے ایک کیمپ میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔
ادھر بدھ کو یمن میں حوثی باغیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی کے بعد فرار ہونے والے یمنی صدر عبدالربوہ منصور ہادی ریاض پہنچ گئے ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یمنی صدر جمعرات کو سعودی دارالحکومت پہنچے ہیں اور وہ وہاں سے مصر میں عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کرنے جائیں گے کیونکہ وہ اب بھی یمن کے قانونی صدر ہیں۔
یمن کے صدر کی درخواست پر ہی سعودی عرب ، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات عملی طور پر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں جاری اس آپریشن کو سوڈان، مراکش، مصر اور پاکستان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ادھر ایران نے یمن میں حوثی قبائل کے خلاف فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک قدم‘ قرار دیا ہے، جبکہ ترکی نے کہا ہے کہ ایران علاقے میں غلبہ حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے یمن میں فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کا موقف ہمارے لیے، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے لیے تکلیف دہ بن گیا تھا۔ یہ بالکل ناقابل برداشت ہے اور ایران کو اسے دیکھنا ہو گا۔‘







