سعودی عرب یمن میں ’ناگزیر اقدامات‘ کر سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty
سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ یمن میں عدم استحکام کا پرامن حل نہ نکالا گیا تو خلیجی ممالک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ’ناگزیر اقدامات‘ کر سکتے ہیں۔
یہ ردعمل یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے خلیجی عرب ریاستوں سے یمن میں مداخلت کریں اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے نو فلائی زون قائم کریں۔
سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے یمن میں ایرانی ’مداخلت‘ کی بھی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یمن خانہ جنگی کے قریب ہے جبکہ شعیہ حوثیوں کی جانب سے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شیعہ حوثی گروہ شمال میں اپنے زیرانتظام علاقوں سے مقامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔
اس پیش قدمی نے حوثی باغیوں اور عبدالربوہ منصور ہادی کی وفادار فوجوں کے مابین تنازع کے قریب کر دیا ہے جو جنوب میں ساحلی شہر عدن میں مقیم ہیں۔
یمنی صدر نے فروری میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شہر چھوڑ دیا تھا۔
تاہم اس اقدام کو جنوب میں رہنماؤں یا سنی گروہوں نے اہمیت نہیں دی ہے۔ اس کے باعث یمن کے ہمسایہ خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کو تشویش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب صدر ہادی کو فوجی امداد کی پیش کریں گے، جنھیں یمن کا قانونی حکمران سمجھتے ہیں تو شہزادہ سعود کا کہنا تھا ’بالکل خطے کے ممالک اور عرب دنیا خطے کو جارحیت سے بچانے کے لیے ناگزیر اقدامات کریں گے۔‘
انھوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ’فرقہ وارانہ تنازع کو بڑھاوا دینے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران پر حوثیوں کی مدد کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے، تاہم دونوں فریق ان الزامات کی تردید کرتےہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شہزادہ سعود برطانوی سیکریٹری خارجہ فلپ ہموڈ کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
فلب ہموڈ کا کہنا تھا کہ ’ہم میں سے کوئی بھی فوجی کارروائی نہیں دیکھنا چاہتا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب اور امریکہ سے بات چیت کر سکتے ہیں کہ وہ یمنی صدر ہادی کو دوبادہ بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔
یہ ردعمل یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے خلیجی عرب ریاستوں سے یمن میں مداخلت کریں اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے نو فلائی زون قائم کریں۔
گذشتہ دنوں حوثی باغیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز کے مختلف حصوں پر قبضہ کر لیا تھا جس سے بعد مقامی سطح پر مظاہرے بھی ہوئے۔
خیال رہے کہ یمن میں موجود متحارب باغی گروہوں جن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں کا تشدد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
گذشتہ جمعے کو دارالحکومت صنعا میں حوثی قبائلیوں کی دو مساجد پر ہونے والے خودکش حملوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔







