یمن سے 600 چینی شہریوں کے انخلا کی تیاریاں

،تصویر کا ذریعہAP
چین نےاپنے بحری علاقے میں سمندری قذاقی کے خلاف گشت پر مامور جہاز کا راستہ بدل کر اسے خلیج کی جانب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد یمن میں محصور اپنے شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کو سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں شیعہ حوثی قبائل کے خلاف ہونے والی فضائی بمباری کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا تاکہ پاکستانی طیارے کے ذریعے وہاں محصور پاکستانیوں کا انخلا ممکن بنایا جا سکے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِن ُہوا کے مطابق چین کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ یمن میں چین کے 600 شہری محصور ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2008 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ چینی بحریہ اپنا کوئی جہاز خلیج اور صومالیہ کے بحری علاقے میں بھجوا رہا ہے۔
ادھر بھارت نے کہا ہے کہ وہ بھی یمن سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے اپنا بحری جہاز یمن بھجوائے گا۔
خیال رہے کہ اتوار کو پاکستان کی قومی ایئر لائن کا جمبو طیارہ 502 مسافروں کو وطن لے کر آیا تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حدیدہ میں 150 کے قریب پاکستانی موجود ہیں تاہم دیگر علاقوں میں موجود پاکستانیوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ حدیدہ پہنچیں تاکہ انھیں وطن واپس لانے کے لیے پی آئی اے کے ایک اور طیارے کو حدیدہ پہنچایا جائے۔



