یمن میں فضائی حملے، حوثی باغیوں کی پیش قدمی جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے لگاتار تیسری رات بھی یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جبکہ باغیوں نے ملک کے جنوبی اور مشرقی میں مزید پیش قدمی کی ہے۔
فضائی حملے دارالحکومت صنعا اور حوثی باغیوں کے شمال میں مضبوط گڑھ صعدہ میں کیے گئے۔
سکیورٹی حکام اور رہائیشیوں کے مطابق فضائی حملوں میں فوجی اڈوں اور حوثی رہنماؤں کے زیرِ استعمال عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یمن کے کی وزارتِ صحت کے مطابق فضائی کارروائیوں میں اب تک کم از کم چھ بچوں سمیت 39 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
صنعا کے ایک رہائشی محمد الجباہی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خوف کی وجہ سے اپنے اہلخانہ سمیت رات کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔
’جب جنگی جہاز آتے ہیں تو طیارہ شکن توپوں کی فائرنگ سے میرے بچے ڈر کر رونے لگتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEuropean Photopress Agency
سعودی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد سے لوگوں نے دارالحکومت سے نکلنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں ہیں اور دوکانیں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب حوثی باغیوں کی بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی میں پیش قدمی جاری ہے اور برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق باغیوں نے عدن سے مشرق کی جانب شہر شاقرا پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس شہر پر قبضے کے بعد باغیوں کو عدن کی جانب جانے والے زمینی راستوں پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔
ایران نے یمن میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کی ایک بار پھر مذمت کی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جمعے کو ایک بیان میں کہا:’ انھیں اسے بند کرنا ہو گا، ہر کسی کو بات چیت کرنے کی حوصلہ افزائی اور یمن میں قومی سطح پر مصالحت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بجائے اس کہ یمنی شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا جائے۔
دوسری جانب یمن میں حوثی باغیوں کے حامی اور سابق صدر مسٹر صالح نے جنگ بندی کر کے بات چیت شروع کرنے کا اپیل کی ہے۔
جمعے کو ہی وزیرِ خارجہ ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ ملک میں حوثی باغیوں کی جارحیت روکنے کے لیے کارگر فضائی حملے درکار ہیں لیکن انھیں باغیوں کی پیش قدمی رکتے ہی ختم ہو جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہ
مصر کے شہر شرم الشیخ سے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں ریاض یاسین کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے یمنی سرزمین پر فضائی حملے جتنا جلدی ممکن ہو، ختم ہونے چاہییں۔
بی بی سی کی اورلا گیورین سے بات کرتے ہوئے یمنی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر ان حملوں کے مطلوبہ نتائج نکلتے ہیں اور حوثی باغیوں کی پیش قدمی رک جاتی ہے تو یہ بمباری دنوں بلکہ گھنٹوں میں رک سکتی ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یمنی صدر جمعرات کو سعودی دارالحکومت پہنچے ہیں اور وہ وہاں سے مصر میں عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کرنے جائیں گے کیونکہ وہ اب بھی یمن کے قانونی صدر ہیں۔
یمن کے صدر کی درخواست پر ہی سعودی عرب ، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات عملی طور پر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں جاری اس آپریشن کو سوڈان، مراکش، مصر اور پاکستان کی حمایت بھی حاصل ہے۔







