یمن میں امدادی جہاز نہیں پہنچ سکے، عدن میں جھڑپیں

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف بمباری کا سلسلہ 11ویں روز بھی جاری رہا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف بمباری کا سلسلہ 11ویں روز بھی جاری رہا

عالمی فلاحی ادارے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق یمن کی خراب صورتحال کے باعث دو امدادی طیارے روانہ نہیں کیے جا سکے ہیں۔

آئی سی آر سی کے مطابق یمن میں جاری تنازعے کی وجہ سے کوئی ایئر لائن اپنا جہاز وہاں بھیجنے پر تیار نہیں ہے۔

دوسری جانب سعودی اتحاد کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن 12ویں روز بھی جاری ہے جبکہ عدن میں حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی حامیوں افواج میں شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی وفادار افواج میں جاری جھڑپوں میں 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ امدادی ادارے ریڈ کراس کو مسلسل کوششوں کے بعد اتوار کو دارالحکومت صنعا میں امداد پہنچانے کی اجازت ملی تھی۔

ادھر ملک کے جنوبی شہر عدن میں حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی وفادار فوج کے درمیان شہر پر کنٹرول کے لیے جنگ جاری ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق اسے دو امدادی طیارے بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں سے ایک سامان بردار طیارہ ہوگا جس پر طبی سازوسامان اور ادویات لدی ہوں گی جبکہ دوسرے چھوٹے مسافر طیارے پر امدادی کارکن اور طبی عملہ سوار ہوگا۔

اتوار کو باغی عدن کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری کرتے ہوئے آگے بڑھے اور کئی عمارتیں اس گولہ باری کی وجہ سے تباہ ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناتوار کو باغی عدن کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری کرتے ہوئے آگے بڑھے اور کئی عمارتیں اس گولہ باری کی وجہ سے تباہ ہوئی ہیں

ریڈ کراس نے سنیچر کو عدن میں امداد پہنچانے کے لیے 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہاں مزید شہری ہلاک ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1700 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

امدادی ادارے کی ترجمان میری کلیئر فغالی کے مطابق شہر کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور گلیوں میں لاشوں کے ڈھیر لگنا شروع ہو چکے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدن میں ’لوگ خوراک لینے باہر نہیں نکل سکتے اور وہاں پائپ تباہ ہونے کی وجہ سے پانی کی بھی قلت ہے۔ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن حالات انتہائی دشوار ہیں۔‘

سعودی اتحاد میں شامل ممالک کا کہنا ہے کہ ان کا یمن میں زمینی کارروائی کا ارادہ نہیں تاہم سعودی مشیر نے یہ بتائے بغیر کہ زمینی کارروائی ہوئی یا نہیں تصدیق کی ہے کہ سعودی بحریہ اور آرمی کی جانب سے مخصوص آپریشن کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اتوار کو باغی شہر کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری کرتے ہوئے آگے بڑھے ہیں اور کئی عمارتیں اس گولہ باری کی وجہ سے تباہ ہوئی ہیں۔

امدادی طیاروں کو سعودی اتحاد کی جانب سے صنعا جانے کی اجازت ملنے کے باوجود صنعا کے مقامی امداد پہنچنے کے حوالے سے شک میں مبتلا ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں صنعا کے رہائشی ہشام اومیسی جو کہ سیاسی مشیر بھی ہیں نے کہا کہ سعودی اتحاد نے متعدد بار ریڈ کراس سے کہا کہ وہ انھیں امداد لانے کی اجازت دے گی تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکا۔

’ہم سب کو اس پر تب یقین آئے گا جب ہم اسے دیکھیں گے، ہمیں ایندھن کی ضرورت ہے، خواراک کی ضرورت ہے، ہم بہت سی دیگر چیزوں کی ضرورت ہے، صرف ادویات اور دو پروازیں یہ نہیں کر سکتیں۔‘

ادھر یمن کی سرحد سے متصل نجران کے علاقے میں 92 سعودی سکولوں کو چار روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق محکمہ تعلیم کے حکام نے اس کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا۔تاہم اس سے قبل سعودی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت یمنی سرحد سے متصل 100 کے قریب دیہات کو دفاعی نقطے نظر سے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ادھر یمن میں مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا سلسلہ بھی جاری ہے۔