یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس، عدن سے حوثی باغی پسپا

اس سے قبد یمنی صدر ہادی کی درخواست پر 22 مارچ کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناس سے قبد یمنی صدر ہادی کی درخواست پر 22 مارچ کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کی جانب سے یمن میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر فضائی حملے روکنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا جبکہ یمن میں حکام کے مطابق صدر ہادی کی حامی افواج نے عدن شہر سے شیعہ حوثی باغیوں کو پسا کر دیا ہے۔

سعودی عرب کی اتحادی افواج نے صدر منصور حادی کی حامی افواج کو جدید اسلحے سے مسلح کیا ہے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں پر فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سنیچر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن میں سعودی مداخلت کے بعد شہری ہلاکتوں میں اضافے کے معاملے پر روس کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 1700 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 اراکین یمن میں بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل نے 22 مارچ کو یمن کے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی درخواست پر بھی اجلاس بلوایا تھا جس میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بونیمور نے خبردار کیا تھا کہ یہ ملک بھی شام، عراق اور لیبیا کی طرح ایک طویل خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یمن میں 25 مارچ کو سعودی عرب نے فضائی بمباری کی شکل میں مداخلت کا آغاز کیا تھا۔ یمن کے صدر ہادی عدن پر باغیوں کے حملے کے بعد بھاگ کر سعودی عرب چلے گئے تھے۔ انھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوجیوں، حوثی باغیوں اور جزیرہ نما عرب کے القاعدہ کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔

جمعرات کو اقوامِ متحدہ کے امدادی امور کی سربراہ ویلیری اموس نے یمن میں محصور شہریوں کی حفاظت اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یمن میں مداخلت پر امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیمن میں مداخلت پر امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران کم ازکم 62 بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 30 بتائی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ شہری ہلاکتیں دونوں یمن میں جنگ لڑنے والے فریقین کی کارروائیوں کی وجہ سے ہورہی ہیں۔

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں سے زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جنھیں بطور سپاہی بھرتی کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے ترجمان ایلسی زائتف کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل بند کمرے میں ’انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فضائی حملوں میں وفقے‘ پر مشاورت کرے گی۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ یمن میں صدر ہادی کا حامی ہے۔

روس نے ایک ایسے وقت میں سعودی بمباری کو روکنے کی درخواست کی ہے جب خلیجی ممالک اقوامِ متحدہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ قرارداد کےذریعے حوثی باغیوں تک ہتھیاروں کی رسائی سمیت دیگر پابندیاں عائد کرے۔

لیکن روس کو اس قرارداد کے متن پر اعتراض ہے۔ روس کی تجویز ہے کہ ہتھیاروں کی درآمد اور برآمد پر پابندی پورے ملک کے لیے ہونی چاہیے اور پابندیاں بھی محدود کی جائیں۔

مکلا القاعدہ کے کنٹرول میں

یمنی حکومت کو القاعدہ، حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حمایتی فوجیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیمنی حکومت کو القاعدہ، حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حمایتی فوجیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے

یمنی حکام نے کہا ہے کہ یمن کے معزول صدر عبدالربوہ منصور ہادی کے حامیوں نے ملک کے جنوبی شہر عدن سے حوثی باغیوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔

صدر ہادی کے حامیوں کو سعودی قیادت والے اتحاد کے جہازوں سے پھینکے گئے اسلحے اور مواصلاتی ساز و سامان سے تقویت ملی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی بمباری سے بھی انھیں فائدہ پہنچا ہے۔

ادھر جنوبی مشرقی ساحلی شہر مکلا القاعدہ کے ہاتھ لگ گیا ہے اور انھوں نے وہاں ایک فوجی چھاؤنی پر قبضہ کر لیا ہے۔

اسی دوران یمن کی سرحد کے قریب دو سعودی فوجی مارے گئے ہیں۔

اس ہفتے شیعہ حوثی باغیوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے عدن کے مرکز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔

لیکن جمعے کے دن انھیں کریٹر کے نواح اور صدارتی محل سے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے 25 مارچ کو یمن پر بمباری شروع کی تھیسعودی عرب کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو اتحادی جہازوں نے اسلحہ پہنچایا۔

اسی دوران جنوبی شہر مکلا میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے ایک فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا۔ اس سے قبل انھوں نے شہر کی جیل پر حملہ کر کے وہاں سے قیدیوں کو رہا کروایا تھا۔

ایک سعودی مشیر کے مطابق سعودی عرب نے یمن کی مدد کے لیے ڈیڑھ لاکھ فوجی اور ایک سو جنگی جہاز مختص کیے ہیں۔

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صدر ہادی کی ’جائز حکومت‘ کی حفاظت کرنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کا زمینی فوج یمن میں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔