یمن: حوثی جنگجوؤں کو عدن میں پسپا کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
حکام نے کہا ہے کہ یمن کے معزول صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حامیوں نے ملک کے جنوبی شہر عدن سے حوثی باغیوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔
صدر ہادی کے حامیوں کو سعودی کی قیادت والے اتحاد کے جہازوں سے پھینکے گئے اسلحے اور مواصلاتی ساز و سامان سے تقویت ملی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی بمباری سے بھی انھیں فائدہ پہنچا ہے۔
ادھر جنوبی مشرقی ساحلی شہر مکلا القاعدہ کے ہاتھ چڑھ گیا ہے، جنھوں نے وہاں ایک فوجی چھاؤنی پر قبضہ کر لیا ہے۔
اسی دوران یمن کی سرحد کے قریب دو سعودی فوجی مارے گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد کے شعبے کی سربراہ ویلیری ایموس کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں یمن میں جاری جنگ سے پانچ سو سے زائد افراد مارے گئے ہیں، جب کہ 1700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
صدر ہادی عدن پر باغیوں کی چڑھائی کے بعد 25 مارچ کو بھاگ کر سعودی عرب چلے گئے تھے۔
انھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حمایتی فوجیوں، حوثی باغیوں اور جزیرہ نما عرب کی القاعدہ کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔
اس ہفتے شیعہ حوثی باغیوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے عدن کے مرکز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن جمعے کے دن انھیں کریٹر کے نواح اور صدارتی محل سے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
سعودی عرب کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو اتحادی جہازوں نے اسلحہ پہنچایا۔
اسی دوران جنوبی شہر مکلا میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے ایک فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا۔ اس سے قبل انھوں نے شہر کی جیل پر حملہ کر کے وہاں سے قیدیوں کو رہا کروایا تھا۔
ایک سعودی مشیر کے مطابق سعودی عرب نے یمن کی مدد کے لیے ڈیڑھ لاکھ فوجی اور ایک سو جنگی جہاز مختص کیے ہیں۔
اس نے 25 مارچ کو یمن پر بمباری شروع کی تھی۔
سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صدر ہادی کی ’جائز حکومت‘ کی حفاظت کرنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کا زمینی فوج یمن میں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔







