’ضرورت پڑنے پر ترکی اور پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی سعودی عرب کو ضرورت پڑنے پر اس کے ساتھ کھڑے ہوں گےاور اس کے استحکام اور علاقائی سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے تمام ممکنہ مدد دی جائے گی۔
یاد رہے کہ یمن میں سعودی عرب کے عسکری آپریشن اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر ترک قیادت سے بات چیت کرنے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جمعے کو ایک روزہ دورے پر انقرہ پہنچے۔
وزیراعظم نواز شریف نے ترک ہم منصب احمد داؤود اوغلو اورصدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے جن میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی شریک تھے۔
ترکی کے وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یمن کی سکیورٹی کی صورتحال تشویشناک ہے اور پاکستان اور ترکی سعودی سالمیت کے لیے اکھٹے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ترک ہم منصب سے بات چیت میں یمن کی صورتحال کے پرامن حل پر اتفاق ہوا ہے۔
’پاکستان اور ترکی سعودی عرب کو ضرورت پڑنے پر اس کے ساتھ کھڑے ہوں گےاور اس کے استحکام اور علاقائی سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے تمام ممکنہ مدد دی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پریس کانفرنس سے خطاب میں ترکی کے وزیراعظم داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ وہ یمن کی صورتحال پر ایران اور سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ پاکستانی ہم منصب سے ان امور پر بات ہوئی ہے کہ کس طرح دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرقہ ورانہ لڑائی سے ہٹ کر کس طرح مل کر رہا جا سکتا ہے اس پر بھی بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے موقف میں یکسانیت ہے اور کہا کہ یمن میں مذاکرات کے لیے جو کوششیں ہو رہی ہیں اس کو اوّلیت دینا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن کی صورتحال پر سعودی عرب اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کے وزیرِ خارجہ انے والے دنوں میں پاکستان بھی جائیں گے۔
’ترکی نے یمن میں استحکام اور آئین اور قانون کے رائج ہونے کے حوالے سے جو بھی کوششیں کی گئی ہیں اس کی حمایت کی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے میں غیر ریاستی عناصر کے مسئلے کا حل ضروری ہے۔
پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف پہلے ہی سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہونے کی صورت میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکے ہیں تاہم ابھی تک وہاں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا ایک اجلاس بدھ کو کراچی میں منعقد ہوا تھا جس میں خارجہ امور کے اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے بعد وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے چھ اپریل کو پارلیمنیٹ کے مشترکہ اجلاس طلب کیا۔
جمعرات کو وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بیان کے مطابق اجلاس میں یمن میں غیرریاستی عناصر کی جانب سے یمن میں حکومت کا تختہ الٹنے کی مذمت کی گئی اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔
بیان کے مطابق اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے مذہبی و ثقافتی تعلقات ہیں اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے خطرے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل آئے گا۔
اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں حکومتی اور عسکری حکام پر مشتمل ایک وفد نےسعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔
یمن میں کارروائی کے لیے پاکستانی فوج بھیجنے کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں شدید مخالفت کر رہی ہیں۔ تاہم مذہبی گروہ ترکی میں سعودی مداخلت پر منقسم رائے رکھتے ہیں۔







