’ شراب کی بوتل پر نہیں سکیورٹی پر توجہ دیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں پولیس کے سربراہ نے سکیورٹی کے نکتۂ نظر سے لگائے گئے ناکوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کو حکم دیا ہے کہ تلاشی کے دوران اگر کسی شخص سے شراب کی ایک بوتل یا چرس پکڑی جائے تو اُس کا مقدمہ درج نہ کیا جائے۔
اس حکم نامے میں یہ کہا گیا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کے نوٹس میں یہ بات آئی تھی کہ ان ناکوں پر تعینات پولیس اہلکار سکیورٹی کے نام پر لوگوں کو روک کر اپنے عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ناکوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے علاوہ آپریشن ڈویژن میں تعینات پولیس اہلکار چوری، ڈکیتی، غیر قانونی طور پر اسلحہ کی خریداری اور بڑی مقدار میں منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
اس سے قبل پولیس کے کسی بھی سربراہ نے تحریری طور پر ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔
اس تحریری نوٹیفیکیشن میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ چرس کی کتنی مقدار پر مقدمہ درج نہ کیا جائے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی شخص شراب پی رہا ہو اور اس کے قبضے سے شراب کی بوتل بھی برآمد ہو تو یہ قابلِ ضمانت جرم ہے لیکن اگر کوئی شخص اس کو سمگل کرنے کی کوشش کرے تو یہ ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔
چرس کے بارے میں قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے قبضے سے چرس برآمد ہو تو اس کا مقدمہ سب انسپکٹر رینک سے کم افسر درج نہیں کر سکتا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
قانون میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ناکوں پر کوئی کانسٹیبل رینک کا اہلکار کسی شخص سے چرس پکڑے گا تو اس اہلکار کے بیان کی روشنی میں تفتیشی افسر تحقیقات کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد پولیس کے ترجمان محمد نعیم کے مطابق اس وقت وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں 60 کے قریب ناکے ہیں جہاں پر مقامی پولیس کے علاوہ فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے اپنے ماتحت افسران کو یہ حکم زبانی طور پر دیا تھا۔
تاہم سابق ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے درخواست کی کہ وہ تحریری طور پر اس بارے میں آگاہ کریں جس کے بعد یہ تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پولیس سربراہ نے اس وقت ملک کو درپیش بڑے مسائل کی جانب توجہ دینے کی ہدایت کی ہے کیونکہ شہروں میں شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام کے لیے جگہ جگہ لگائے گئے سکیورٹی ناکوں پر پولیس اہلکار اصل ذمہ داریوں کی بجائے دیگر قابل ضمانت جرائم میں ملوث ہونے کے شک میں لوگوں کو چیک کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان ناکوں کے موثر ہونے پر کئی بار سوالات اٹھائے گئے۔







