’نافرمان‘ پولیس افسران نوکریوں سے برخاست

مذکورہ پولیس افسر نے گذشتہ برس اگست کے آخر میں دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے سے روکنے اور امن وامان قائم رکھنے کے لیے حکام کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمذکورہ پولیس افسر نے گذشتہ برس اگست کے آخر میں دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے سے روکنے اور امن وامان قائم رکھنے کے لیے حکام کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی وفاقی حکومت نے گذشتہ برس اسلام آباد میں دھرنا دینے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر ’تشدد سے انکار پر‘ اسلام آباد میں تعینات سابق سینئیر سپرنٹینڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) محمد علی نیکوکارا کو نوکری سے برطرف کردیا ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کے سابق سربراہ آفتاب چیمہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔

اس ضمن میں اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ پولیس افسر نے گذشتہ برس آگست کے آخر میں دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے سے روکنے اور امن وامان قائم رکھنے کے لیے حکام کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا۔

متاثرہ اہلکار اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل کا حق رکھتے ہیں۔

خط میں کہا گیا تھاکہ چونکہ پولیس ایک ڈسلپن فورس ہے جس میں ماتحت پر اپنے افسر کے احکامات ماننے کا پابند ہے اور احکامات ماننے سے انکار کرنے والوں کی فورس میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے گذشتہ برس 31 اگست کو وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کے اعلان کے بعد حکومت نے مبینہ طور پر اس وقت کے اسلام آباد پولیس کے سربراہ آفتاب احمد چیمہ اور ایس ایس پی نیکوکاراکو مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مذکورہ افسران نے اعلی حکام سے کہا تھا کہ وہ یہ احکامات تحریری طور پر دیں۔

احکامات نہ ماننے پر ان دونوں افسران کے انکار کے بعد اُنھیں اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ حکومت نے اسلام آباد پولیس کے سابق سربراہ آفتاب چیمہ کو جبری طور پر ریٹائر کردیا جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق مذکورہ پولیس افسر نے اگلے سال مئی میں ریٹائر ہونا تھا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک اہلکار کے مطابق محمد علی نیکوکارا نے اعلی حکومتی حکام سے یہ استدعا کی تھی کہ اُنھیں برطرف کرنے کی بجائے جبری طور پر ریٹائر کردیا جائے تاہم متعقلہ حکام کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈیژن محمد علی نیکوکارا کی جگہ تعینات ہونے والے اسلام آباد پولیس کے سابق ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کے خلاف درج ہونے والی رپورٹ پر کارروائی کر نے پر غور کر رہی ہے۔

مذکورہ پولیس افسر کے خلاف پولیس ایکٹ کی دفعہ 29 کے تحت مقامی تھانے میں رپورٹ درج کی گئی جس میں اُن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے بطور ایس ایس پی ایک کالعدم جماعت کے چار کارکنوں کو رہا کردیا تھا جنہیں رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اُنھیں گرفتار کرکے اُن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا تھا۔

رینجرز حکام نے اس واقعہ کی اطلاع وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو دی تھی جنہوں نے عصمت اللہ جونیجو کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔