اب پولیس بھی موبائل کالز کا سراغ لگا سکے گی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں پولیس کو پہلی مرتبہ موبائل فون کی کالز کا سراغ لگانے کی ٹیکنالوجی فراہم کر دی گئی ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ جڑواں شہروں کی پولیس کو اس قسم کے آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے ایسے تمام آلات فوج کے خفیہ اداروں کے پاس ہوتے تھے۔
اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پولیس کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دی ہے اور پولیس کو اس ضمن میں مطلوبہ سازوسامان اور گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج نے قانون نافد کرنے والے اداروں کے 300 سے زائد اُن اہلکاروں کو بھی تربیت دی ہے جو صدر اور وزیر اعظم سمیت بیرون ملک سے پاکستان کے دورے پر آنے والی اہم شخصیات کی سکیورٹی کے لیے لگائے گئے روٹ پر تعینات ہوتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان اہلکاروں کو تربیت دینے کی منظوری فوجی قیادت نے وزارتِ داخلہ کی درخواست پر دی تھی۔
خیال رہے کہ پنجاب میں لاہور پولیس کے پاس کال ریکارڈ کرنے کے آلات ہیں لیکن وہ ان کالز کا سراغ لگانے کی اہلیت نہیں رکھتی اور اس کے لیے اُنھیں خفیہ اداروں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن اور پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد شدت پسندوں کی جانب سےاہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے امکانات میں اضافہ ہوگیا تھا جس کے بعد ان اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق پولیس کی سپیشل برانچ کے اہلکاروں کو ایئرپورٹ پر غیر ملکی شخصیات کو طیارے سے لے کر وزیر اعظم ہاؤس یا ایوان صدر تک پہنچانے کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان اہلکاروں کو تربیت دینے والوں میں فضائیہ اور بری فوج کے افسران شامل تھے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے فوجی افسران نے لاہور میں بننے والی انسداد دہشت گردی فورس کو بھی تربیت دی تھی اور فوجی کمانڈوز مختلف جیلوں کے اہلکاروں کو شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر منگلا چھاؤنی میں تربیت دے چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق شدت پسندی کے خلاف جنگ میں فوجی اور سویلین قیادت میں ہم آہنگی پیدا ہونے کے بعد سکیورٹی اور سویلین اداروں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ ملا ہے۔







