موبائل سم دہشت گردی کے خلاف ہتھیار

پاکستان میں موبائل صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں موبائل صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے
    • مصنف, ایم الیاس خان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں موجود ایک چھوٹے سے گاؤں ترخی نگیال میں بہت سے مرد ایک موبائل کمپنی کی جانب سے بنائے گئے ایک چھپر کے نیچے کھڑے ہیں۔

وہ یہاں اپنے موبائلوں میں موجود سم کارڈ اپنے نام کروانےاور اس کی تصدیق کروانے آئے ہیں۔ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو حکومت کی جانب سے دی جانے والی دوسری ڈیڈ لائن 13 اپریل کے اختتام پر ان کی سِم کام کرنا چھوڑ دے گی۔

صارفین کی موبائل سِموں کی تصدیق اور اندراج 16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے ایک بڑے حملے کے بعد حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملہ آوروں نے جو موبائل سمیں استعمال کیں وہ دراصل ان لوگوں کے نام تھیں جن کا دہشت گرد گروہوں سے تعلق نہیں تھا۔

سِم کارڈ

سِم کارڈ سبسکرائبر آئیڈینٹٹی ماڈیول کا مخفف ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی پلیٹ نما چپ ہوتی ہے جسے موبائل فون کے اندر ڈالا جاتا ہے جس کے بعد موبائل کمپنی کا کنیکشن متحرک ہو جاتا ہے۔

دہشت گردو اسے باہمی رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دھمکی آمیز فون کالوں، رقم کی منتقلی اور نصب شدہ بموں کو اڑانے کے لیے بھی اسی سم کا استعمال ہوتا ہے۔

پاکستان میں بڑے پیمانے پر سم کارڈوں کی تصدیق اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ یہاں موبائل صارفین کی تعداد دس کروڑ سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔

سِموں کی تصدیق کا عمل 2005 میں نادرا کی جانب سے قومی شناختی کارڈوں کو کمپیوٹرائز کیے جانے کی وجہ سے آسان ہو گیا ہے۔

اس سسٹم کے تحت پاکستانی قومیت کے حامل تمام لوگ اپنا اپنا بائیومیٹرک ڈیٹا قومی ڈیٹا بیس اور نادرا کو دیتے ہیں جس کے بعد انھیں قومی شناختی کارڈ یعنی سی این آئی سی نمبر مل جاتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں کل پانچ کمپنیاں موجود ہیں جو صرف قومی شناختی کارڈ کو دیکھ کر اپنی سمیں صارفین کو فروخت کرتی ہیں۔ وہ صارف سے تازہ ترین بائیو میٹرک ڈیٹا نہیں لیتیں۔

پاکستانی فوج نے جون 2014 میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج نے جون 2014 میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا

رواں ماہ جنوی میں ان کمپنیوں نے تین کروڑ روپیہ خرچ کر کے ملک بھر میں اپنی شاخوں پر 70 ہزار سے زائد بائیومیٹرک ڈیوائسز رکھوائیں۔ ان کی مدد سے سِموں کی دوبارہ سےتصدیق کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جو بھی صارف اپنی سِم کی تصدیق کروانا چاہتا ہے وہ ان مراکز پر جا کر انھیں اپنا شناختی کارڈ دکھاتا ہے جسے دکھا کر اس نے اپنی سم خریدی ہوتی ہے۔

اس کے بعد موبائل کمپنیوں کی ڈیوائس پر صارف انگوٹھا رکھتا ہے جسے نادارا کے بائیو میٹرک ڈیٹابیس سے ملایا جاتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ان نئے اقدامات کی وجہ سے شدت پسندوں کے لیے موبائل سموں کا غلط استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

خاموش حفاظت

لیکن دہشت گردی کے خلاف حکومت کے دیگر اقدامات کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں جن پر اچھی طرح عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

ابتدا میں پشاور سانحے کے بعد یہ لگا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ شدت پسند گروہوں کو دی جانے والی خاموش حفاظت کو ختم کرنے کے موڈ میں ہے۔ اس میں زیادہ دیر نہ لگی جب حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 20 نکات پر مبنی نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔

اس منصوبے میں بنیاد پرست مدارس یا دینی مدرسوں کے خلاف کریک ڈاؤن، نام بدل کر کام کرنے والے کالعدم گروہوں پر پابندی عائد کرنا، دہشت گردوں کے حامیوں کی کارروائیوں کو روکنا اور ان کے رابطوں کے نیٹ ورکس اور انھیں ملنے والی امداد اور فنڈ کو ختم کرنا شامل تھا۔

پاکستان میں موجود بہت سے مدارس قانونی طور پر رجسٹرڈ ہی نہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں موجود بہت سے مدارس قانونی طور پر رجسٹرڈ ہی نہیں

لیکن گذشتہ ہفتے پاکستان میں قومی ادارہ برائے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کے سربراہ حامد علی خان نے تسلیم کیا کہ مدارس کی ’اصلاحات اور کالعدم گروہوں‘ کے خلاف کارروائی حکومت کی فہرست میں شامل نہیں رہیں۔

انھوں نے یہ بات پاکستان کے انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ معاملات ہیں جو وقت طلب ہیں اور ان کے لیے لمبی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیاسی مصلحتیں

حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کا مرکزی ووٹ بینک پنجاب میں ہے جو بہت سی انتہا پسند تنظیموں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنحکمراں جماعت مسلم لیگ ن کا مرکزی ووٹ بینک پنجاب میں ہے جو بہت سی انتہا پسند تنظیموں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جوش و ولولہ کم ہونے کی وجہ اعتماد کی کمی ہے۔

لاہور میں موجود تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف دلی طور پر پوری طرح سے شدت پسندی کے بیانیے کو ختم کرنے کے لیے قائل نہیں ہوئے ہیں۔

اسی کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وسطی پنجاب میں روایتی طور پر مسلم لیگ ن کےووٹ بینک کا انحصار وہاں موجود دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند مذہبی لوگوں پر ہے۔

پاکستان میں موجود بڑے انتہاپسند گروہ پنجاب سے وابستہ ہیں اور انھوں نے غیر پنجابی گروہ بھی پیدا کیے جن میں تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کی بہت سے شاخیں شامل ہیں۔

اکثر اوقات مسلم لیگ ن پر الزام لگتا ہے کہ گروہوں کے سیاسی دھڑوں کے ساتھ اتحاد کرتی ہے۔ حکمراں جماعت کی سیاسی مصلحتوں کا اثر تو ہے لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اصل طاقت فوج کے پاس ہے۔

فوج نے دہشت گردوں کے مرکز شمالی وزیرستان پر جون 2014 میں کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس عزم کا اظہار نہایت بلاغت کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے کہ ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تو کیا فوج کی سوچ میں بھی کوئی تبدیلی آئی ہے؟

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف سول سوسائٹی کی جانب سے دارالحکومت میں مقدمہ درج کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنلال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف سول سوسائٹی کی جانب سے دارالحکومت میں مقدمہ درج کیا گیا

اسلام آباد میں موجود تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا خیال ہے کہ اب بھی چند انتہا پسند گروہ موجود ہیں جنھیں سماجی اہداف کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے جماعت الدعوہ کے حافظ سعید اور جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کے تین ماہ بعد بھی فوج ان سخت گیر موقف رکھنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔

ادھر ملک میں شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے پاکستانی حکام پر دہرے معیار کا الزم لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت دارالحکومت لال مسجد کے سابق مہتمم مولانا عزیز کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کو عدالت نے متعدد بار بری کرنےکا حکم دیا تاہم انھیں نقصِ امن کے خدشے کے تحت حکومت نظر بند کر دیتی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنذکی الرحمٰن لکھوی کو عدالت نے متعدد بار بری کرنےکا حکم دیا تاہم انھیں نقصِ امن کے خدشے کے تحت حکومت نظر بند کر دیتی ہے

ممبئی حملوں کے مرکزی ملز م ذکی الرحمٰن لکھوی بھی اسی کی ایک مثال ہیں جو نظربندی سے رہائی پانے کے قریب ہیں۔

یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناِ پر عائشہ صدیقہ جیسے لوگ اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ کچھ سیاست دان اور حکام اس وقت سستی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جب انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی بات آتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ کارروائی کے ذریعے صرف نام نہاد برے طالبان کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اچھے طالبان بظاہر کم ہو جائیں گے لیکن موجود رہیں گے۔