’موبائل کمپنیاں صارفین کا ریکارڈ درست کریں‘

ملزمان کے زیر استعمال سم کے اندراج شدہ پتے پر پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کے نام پر وہ سم جاری کی گئی ہے اس سے وہ لا علم ہے: ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات
،تصویر کا کیپشنملزمان کے زیر استعمال سم کے اندراج شدہ پتے پر پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کے نام پر وہ سم جاری کی گئی ہے اس سے وہ لا علم ہے: ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات

سپریم کورٹ نے پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پندرہ روز کے اندر نادرا سے موبائل سموں کی تصدیق کرائیں اور ایک شناختی کارڈ پر صرف پانچ سموں کا اجرا کیا جائے۔

سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اس عمل کے اخراجات کمپنیوں کو خود اٹھانا ہوں گے۔

یہ ہدایات کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران جاری کیں۔

عدالت کو پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے چیئرمین اسماعیل شاھ نے آگاہ کیا ہے کہ کراچی میں موبائل فون کے اجرا کے لیے بائیومیٹرک سسٹم کا نفاذ کیا جا رہا ہے، جس کی تصدیق کے بغیر کوئی سم جاری نہیں کی جائیگی۔اس موقعے پر زونگ کمپنی کے وکیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے آج سے ہی بائیو میٹرک نظام نافذ کردیا ہے ۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چیئرمین پی ٹی اے سماعیل شاھ سے سوال بھی کیا کہ کیا کراچی میں تمام سمیں منسوخ کر کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا سے دوبارہ اجارا کرایا جا سکتا ہے؟

ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر سموں کے اجرا کا نظام درست ہوجائے تو اغوا اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم میں پچاس فیصد تک کمی آسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ملزمان کے زیر استعمال سم کے اندراج شدہ پتے پر پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کے نام پر وہ سم جاری کی گئی ہے اس سے وہ لا علم ہے۔

شاہد حیات نے انکشاف کیا کہ کراچی میں انہوں نے ایک مشین تحویل میں لیکر کچھ گرفتاریاں کی ہیں جو ووٹر لسٹ سامنے رکھ کر شناختی کارڈ کی مدد سے سمیں ایکٹو کرتے تھے اور اس گروہ سے تین سو سم کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

کوئٹہ کے ایڈیشنل آئی جی میر زبیر نے بتایا کہ سموں کا ریکارڈ نہ ملنے کے باعث تفتیش میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ’ملزم ایک سم کو ایک بار استعمال کرتے ہیں جس کے بعد اس کو ضائع کردیا جاتا ہے۔‘

میر زبیر نے تجویز پیش کی کہ موبائل سموں کے اجرا کے لیے طریقہ کار مرتب کرنے کے لیے پی ٹی اے، موبائل کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے جو تجاویز پیش کرےآ عدالت نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا اور ہدایت کی جمعہ 29 نومبر تک عارضی حل تجویز کیا جائے۔

عدالت میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو طارق باجوہ پیش ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سیکیورٹی فورس کے ائنٹی اسمگلنگ کے اختیارات بحال کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے سمری وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔

’اگر سموں کے اجرا کا نظام درست ہوجائے تو اغوا اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم میں پچاس فیصد تک کمی آسکتی ہے۔‘ ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات
،تصویر کا کیپشن’اگر سموں کے اجرا کا نظام درست ہوجائے تو اغوا اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم میں پچاس فیصد تک کمی آسکتی ہے۔‘ ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بدھ کو کسٹم کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ سہراب گوٹھ میں منشیات، ہتھیاروں اور اسمگلنگ کے سامان کے اڈے اور گدام ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ وہاں گنجان آبادی ہے، پولیس اور رینجرز کی مدد کے بغیر کارروائی ممکن نہیں اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کے ساتھ حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں دونوں بندرگاہوں سے سو فیصد ٹیکس وصولی کی جارہی ہے تو طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ وہ ٹیکس چوری کے خاتمے کا دعویٰ تو نہیں کرسکتے لیکن یقین دہانی کراتے ہیں کے اس پر بڑی حد تک قابو پایا جائے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ بدھ کو بندرگاہوں سے 1789 کنٹینر کلیئر کیے گئے جن سے پونے تین ارب روپے ٹیکس وصولی کی گئی ہے۔

انسدادِ منشیات کے ڈائریکٹر برگیڈیئر ابوذر نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں کالا پل، عیسیٰ نگری اور سہراب گوٹھ سمیت بیس منشیات کے اڈوں کی نشاندھی کی گئی ہے، جہاں سے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ کراچی میں اربوں روپوں کی منشیات کا کاروبار ہے، آپ نے بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کے بجائے ہیرونی اور افیموں کو گرفتار کیا ہے۔ عدالت نے ان کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور سہراب گوٹھ میں کارروائی کی ہدایت جاری کی۔