کوئٹہ میں تین ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق

بلوچستان میں اس سے قبل لورالائی اور قلعہ عبداللہ اضلاع میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں اس سے قبل لورالائی اور قلعہ عبداللہ اضلاع میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق ہوئی ہےجس کے بعد رواں سال صوبے میں مجموعی طور پر سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سیل بلوچستان کی جانب سے جاری کیے گئے پریس ریلیز کے مطابق پولیو کے کیس کی تصدیق کوئٹہ شہر میں تین ماہ کے بچے میں ہوئی ہے۔

متاثر ہونے والا بچہ پشتون آباد کا رہائشی ہے۔ بچے کو چھ مرتبہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جا چکے ہیں۔

ایمرجنسی آپریشن سیل کے مطابق بلوچستان میں اس سے قبل لورالائی اور قلعہ عبداللہ اضلاع میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ کوئٹہ میں پولیو وائرس کا یہ پہلا کیس ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سیل کے مطابق قومی سطح پر مجموعی کیسز کی تعداد 20ہوگئی ہے۔

پولیو کے حوالے سے کوئٹہ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جن کو ہائی رسک ایریا قرار دیا گیا ہے ۔

لیکن پیر کے روز بلوچستان میں پولیو کے خلاف جو تین روزہ مہم شروع کی گئی اس کو کوئٹہ شہر میں ملتوی کر دیا گیا۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں یہ مہم سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر ملتوی کردی گئی۔

کوئٹہ کے سوا بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی تین روزہ مہم جاری ہے۔

اس مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 24لاکھ 72ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ شہر میں پولیو کے خلاف مہم چند روز بعد شروع کی جائے گی۔