کوئٹہ: پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔
پولیس اہلکار پر حملے کا واقعہ شہر کے پشتون آباد کے علاقے میں پیش آیا جس کے بارے میں قائمقام کیپیٹل سٹی پولیس افسرکوئٹہ سید ا متیاز شاہ نے بتایا کہ اس علاقے میں ایک ٹیم بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھی۔
اس ٹیم کی سیکورٹی پر سٹی پولیس تھانے کا ایک اہلکار مامور تھا جس کے ارکان کو اس علاقے میں قائم صحت کے مر کز پہنچانے کے بعد پولیس اہلکار قریبی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’نماز کی ادائیگی کے بعد جب پولیس اہلکار مسجد سے واپس نکلنے کے بعد اپنے رائفل کو رکھ کر جوتوں کا تسمہ باندھ رہا تھا تو اس دوران موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے اس پر فائر کھول دیا۔‘
فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
فائرنگ سے ایک پندرہ سالہ لڑکا بھی زخمی ہوا جس کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ایک پولیو ورکر کے مطابق پولیس اہلکار کو مارنے کے بعد حملہ آور اس مرکزِ صحت پر گئے جہاں پولیو ٹیم کے ارکان موجود تھے۔
چونکہ فائرنگ کی آواز سننے کے بعد مرکزِ صحت کے دروازے کو اندر کی جانب سے بند کیا گیا اس کی وجہ سے حملہ آور اس کے اندر داخل نہیں ہوسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پولیس حکام نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ پولیو ٹیم پر نہیں بلکہ پولیس اہلکار پر تھا۔
یاد رہے کہ یہ حملہ شہر میں پندرہ یونین کونسلوں میں بچوں کو پولیو سے بچانے کے قطرے پلانے کے تین روزہ مہم کے آخری دن کیا گیا۔
پشتون آباد کے علاقے میں پہلے بھی پولیو ٹیم کے اراکین پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے اوائل میں اس علاقے میں ایک ٹیم پر دستی بم کے حملے میں ایک بچہ زخمی ہوا تھا۔
جبکہ گزشتہ سال 27 نومبر کو پشتون آباد کے قریب مشرقی بائی پاس کے علاقے میں مسلح افراد کے حملے میں تین خواتین سمیت چار پولیو ورکر ہلاک ہوئے تھے۔
اسی طرح اب تک کوئٹہ ، لورالائی اور پشین میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور تین پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔







