قومی پولیو مہم، کراچی میں پولیو ٹیم پر حملہ

کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں انسداد پولیو مہم کے دوران ایک پولیس اہلکار کوگولی مار کرشدید زحمی کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح اورنگی نمبر چار کے علاقے بنارس کالونی میں اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے ویکسین پلانے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت ٹیم کی ارکان ایک مکان کے اندر قطرے پلانے گئی ہوئی تھیں جبکہ سندھ پولیس کا اے ایس آئی تبسم اس مکان کے باہر موجود تھا۔

پولیس کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے تبسم سر پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا جبکہ دیگر پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہوگئے۔

اس حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ اورنگی نمبر چار کے علاقے میں پولیو مہم معطل کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں مرحلہ وار قومی پولیو مہم سخت سکیورٹی میں جاری ہے اور پیر کو کراچی کے تین اضلاع شرقی، غربی اور ملیر میں پولیو مہم کے دوران 12 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جس میں درجنوں رضاکاروں، ہیلتھ ورکروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے اور سنہ 2014 میں یہاں پولیو کے مریضوں کی تعداد 303 تھی جو گذشتہ 10 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

اس صورتحال میں جون 2014 میں صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے پولیو ویکسین پینا لازمی قرار دے دیا تھا۔