’مذاکرات کو نئی شکل اور نئے سرے سے شروع کریں‘

بھارت کی جانب سے اچانک مذاکرات کو معطل کرنے اور پاکستان کی جانب سے انھیں بحال نہ کرنے کا عندیہ دینے کے بعد مبصرین اس دورے کو اہمیت دے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت کی جانب سے اچانک مذاکرات کو معطل کرنے اور پاکستان کی جانب سے انھیں بحال نہ کرنے کا عندیہ دینے کے بعد مبصرین اس دورے کو اہمیت دے رہے ہیں
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

جیسا کہ توقع تھی بھارتی خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر کا دورۂ پاکستان دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی بریک تھرو کا باعث نہیں بنا۔ لیکن سرکاری اور غیر سرکاری مبصرین اعلیٰ ترین بھارتی سفارت کار کی پاکستان آمد ہی کو بڑی خبر قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے اسلام آباد پہنچنے کے فوراً بعد اپنے پاکستانی ہم منصب اعزاز چوہدری سے مذاکرات کے علاوہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اس دوران کیا کچھ زیر بحث آیا اس بارے میں میڈیا کو زیادہ نہیں بتایا گیا۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایک مختصر سا بیان تو جاری کیا لیکن صحافیوں کے سوالوں کے جواب نہیں دیے۔

لفظوں کی گنتی کے اعتبار سے تو نہیں البتہ بیانیے کے وزن کے اعتبار سے بھارتی سیکریٹری خارجہ کا بیان خاصا بھاری بھرکم تھا۔ جہاں انھوں نے سرحد پار دہشت گردی اور ممبئی حملوں کا ذکر کیا، وہیں مشترکہ سرحد پر امن قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی اس تشویش سے پاکستان کو آگاہ کیا ہے جو سرحد پار دہشت گردی اور ممبئی حملوں کے بارے میں ہے۔ دونوں ملک یہ سمجھتے ہیں کہ سرحد پر امن کا قیام بہت ضروری ہے۔‘

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے شام کے وقت علیحدہ پریس کانفرنس کی اور کم و بیش وہی باتیں دہرائیں جو اس سے پہلے بھی پاکستان کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے نمائندوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا ہے جس پر غور و خوض کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔

’ہم نے طے کیا ہے کہ ہم اپنی قیادت سے مشورے اور آپس کے مشورے کے بعد دوبارہ رابطہ کریں گے۔‘

مذاکرات سے قبل اور مودی سرکار کے دلی میں اقتدار میں آنے کے بعد مشترکہ اور متنازع دونوں سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوا جس سے کئی فوجی اور سویلین جانوں سے گئے
،تصویر کا کیپشنمذاکرات سے قبل اور مودی سرکار کے دلی میں اقتدار میں آنے کے بعد مشترکہ اور متنازع دونوں سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوا جس سے کئی فوجی اور سویلین جانوں سے گئے

تاہم اعزاز چوہدری نے اس دوبارہ رابطے کے لیے کوئی تاریخ دینے سے انکار کیا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے اپنے وزیراعظم کی جانب سے ایک خط بھی وزیراعظم نواز شریف کے حوالے کیا ہے۔

بھارت کی جانب سے پچھلے سال مذاکرات معطل کرنے کے اعلان کے بعد، دونوں ملکوں کے درمیان یہ پہلا با ضابطہ رابطہ ہے۔ اس دوران متنازعہ سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب سے درجنوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں ملک ان ہلاکتوں کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے مذاکرات ختم کرنے کے اچانک فیصلے کے بعد پاکستان نے عالمی برادری اور خود بھارت پر واضح کر دیا تھا کہ اب پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی۔

پھر اس دوران ایسا کیا ہوا کہ خود بھارتی وزیراعظم جنہوں نے پچھلے سال یکطرفہ طور پر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، پاکستانی وزیراعظم کو فون کیا اور سیکریٹری خارجہ کو پاکستان بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

بھارت میں سابق پاکستانی سفیر عزیز احمد خان کہتے ہیں کہ بھارت پر مذاکرات کے لیے امریکی دباؤ نے بھی کام دکھایا۔ اس کے علاوہ کچھ اندرونی عوامل بھی تھے جنھوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ رابطے قائم کرنے پر مجبور کیا۔

نواز شریف کے مودی کی حلف برداری کے لیے دہلی جانے سے تعلقات میں بہتری کی امیدیں کشیدگی میں اضافے کے ساتھ کچھ ہی عرصے میں دم توڑ گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننواز شریف کے مودی کی حلف برداری کے لیے دہلی جانے سے تعلقات میں بہتری کی امیدیں کشیدگی میں اضافے کے ساتھ کچھ ہی عرصے میں دم توڑ گئی تھیں

’نریندر مودی کے سامنے کچھ ریاستی انتخابات تھے جن میں کشمیر میں انتخابات کا معاملہ بھی تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنے منشور کے مطابق پاکستان کو اپنی طاقت بھی دکھانا چاہتے تھے۔ اب جبکہ وہ سب ہو چکا ہے تو وہ اب حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام متنازعہ امور کا احاطہ کرنے والے جامع مذاکرات ممبئی حملوں کے بعد سے التوا کا شکار ہیں۔ پاکستان وہیں سے مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے جہاں یہ سلسلہ ٹوٹا تھا، جبکہ دہلی سے ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ نئی بھارتی حکومت نئے سرے سے بات شروع کرنے کی خواہاں ہے۔ سابق بھارتی خارجہ سیکریٹری کے سی سنگھ کہتے ہیں کہ اس بھارتی خواہش کی وجہ بھی اندونی اور بیرونی معاملات ہی ہیں۔

’پاکستان اور بھارت خاص موضوعات پر بات کرتے رہے ہیں۔ یہ تنازعہ اور مسائل کئی سال پہلے ایجنڈے پر آئے تھے۔ اب حالات بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ نئے مسائل سامنے آئے ہیں جن میں افغانستان اور پانی جیسے تنازعات بھی شامل ہیں۔ تو یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ان مذاکرات کو نئی شکل دیں اور نئے سرے سے شروع کریں۔‘