’شکارپور کراچی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی
ندیم شیخ کراچی میں رکشہ چلاتے تھے اور یہاں کے حالات نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ اپنے بچوں کو شکارپور بھیج دیں لیکن ان کا یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا۔
شکارپور کی امام بارگاہ میں خودکش بم حملے میں ان کے دونوں بیٹے اور دو بھتیجے بھی ہلاک ہو گئے۔ اب انہیں افسوس ہے کہ انہوں نے بچوں کو شکارپور کیوں بھیجا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’شکارپور کراچی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔
<link type="page"><caption> اندرونِ سندھ میں بڑھتی شدت پسندی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130422_extemism_in_sindh_rk" platform="highweb"/></link>
سندھی زبان کے نوجوان شاعر زبیر سومرو کے والد ریٹائرمنٹ کی زندگی شکارپور میں گزارنا چاہتے تھے اس لیے وہ حیدرآباد سے شکارپور منتقل ہوگئے لیکن موجودہ صورتحال کی وجہ سے زبیر سومرو واپس حیدرآباد جانا چاہتے ہیں۔
زبیر سومرو سے جب 2013 میں شکارپور میں ملاقات ہوئی تھی تو شہر میں شدت پسندی کی کئی مثالیں بیان کر کے انھوں نے اپنی پریشانی اور خدشات کا اظہار کیا تھا اس وقت تک دہشت گردی کے تین واقعات پیش آ چکے تھے۔
سندھی ادبی سنگت کے پلیٹ فارم پر سرگرم زبیر کو شکایت تھی کہ یہاں کی سول سوسائٹی کمزور ہے کیونکہ جب ایک صدی قدیم سری ہینری ہالینڈ آنکھوں کے ہسپتال پر قبضے کے خلاف انھوں نے احتجاج کیا تھا تو اس میں بھی لوگوں کی تعداد کم تھی حالیہ دہشت گردی پر بھی انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہا تو ’انہیں ملائیت کے خلاف نعرے لگانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔‘
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے شکارپور میں کہا تھا کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے لیکن دہشت گرد کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے حقیقت تو بیان کی ہے لیکن لوگوں کی خدشات اور پریشانی میں بھی اضافہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خصوصی یونٹس جو شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں وہ کراچی تک محدود ہیں ابھی تک شکارپور واقعے میں کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں حالانکہ پولیس کو یقین ہے کہ حملہ آور کو مقامی معاونت حاصل ہے۔
سندھ میں 2010 کے سیلاب کے ایک سال کے بعد جب شکارپور جانا ہوا تھا تو شہر کے مرکزی چوراہے پر واقع دیوان ہوٹل پر سندھی میں یہ عبارت تحریر تھی کہ ’سب جو مالک ھک آھی، ساتھ میں یا اللہ، یا محمد اور اور اسی طرح اوم کی تختیاں‘ لگی ہوئی ہیں۔
اسی طرح ڈھک بازار کے کئی دکانوں میں بھی بھگت کبیر کی شاعری نظر آتی تھی لیکن جب 2013 میں اسی شہر میں جانا ہوا تھا کہ شہر کی دیواریں جمعیت علماء اسلام اور اس کی ذیلی جماعت اسلامی جمعیت طلبہ کی چاکنگ سے سجی ہوئی تھیں۔
دیوان ہوٹل کےسامنے موجود کلاک ٹاور جو سیٹھ ہیرانند بجاج کی یاد میں 1930 میں تعمیر کیا گیا تھا، اس پر مذہبی سیاسی اور کالعدم تنظیموں کے جھنڈے اس طرح لہرا رہے تھے جیسے اس ٹاور کو فتح کر لیا گیا ہے۔
کراچی بندرگاہ کی تعمیر سے کئی سال قبل تک شکارپور اس خطے کی ایک بڑی منڈی تھا۔
وسط ایشیا اور افغانستان کا تجارتی سامان اسی شہر سے جاتا تھا۔ 17ویں صدی میں آباد اس شہر میں داخل ہونے کے سات راستے تھے جن میں ایک ہاتھی در تھا، جہاں سے مال بردار ہاتھی داخل ہوتے تھے۔
کئی عروج اور زوال دیکھنے والا شکارپور افغان حکمران نادر شاہ کے زیر اثر بھی رہا، جس نے یہاں اپنا گورنر تعینات کردیا تھا جو یہاں سے محصول وصول کرتا تھا۔ اسی دور حکومت میں درانی پٹھان بھی آکر یہاں آباد ہوئے ان میں سے ایک خاندان کا فرد آغا سراج درانی ان دنوں سندھ اسمبلی کا سپیکر ہے۔
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس شہر میں ودھوا منڈل بھی تھا تو ڈرامہ سوسائٹی بھی جس کی بنیاد 1897 میں رکھی گئی تھی، اس طرح ہسپتال، سکول، کالج سے لیکر بجلی کے مقامی پاور پلانٹ تک تمام سہولیات ہندو تاجروں کے عطیات سے قائم تھیں، جبکہ ان کی رہائش گاہیں بھی آرٹ کا ایک نمونہ تھیں جن میں سے بعض آج بھی مخدوش حالت میں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ شکارپور شہر کو دراصل وہاں کی سول سوسائٹی نے بنایا تھا۔
سندھ کے تریمورتی صوفی شعرا شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست اور سامی میں سے سامی کا تعلق شکارپور سے تھا۔ شاید اسی کا اثر رسوخ تھا کہ سیٹھ تارا چند نے جو ہپستال تعمیر کرایا اس کے فرش پر اپنا نام تحریر کرایا تاکہ لوگ ان کا نام پڑھ کر نہیں بلکہ عبور کرکے اندر داخل ہوں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ایک سو شہروں میں شکارپور بھی شامل ہے، جس کے دروازے، کھڑکیاں اور دوسرا آرائشی سامان فروخت ہوتا رہا ہے، حالانکہ سندھ حکومت ان عمارتوں کو ورثہ قرار دے چکی ہے۔
نامور آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شکارپور کی کسی جگہ کا ایک پلر انہوں نے حیدرآباد کی ایک دکان میں برائے فروخت دیکھا تھا۔
مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی کی تحریک میں شکارپور کے کئی ہندو نوجوان اور کانگریس ورکر بھی گرفتار ہوئے تھے تاہم تاریخ کے مطابق سندھ کے مسلمان پیروں نے اس تحریک کو ہندوؤں کی تحریک قرار دیکر برطانوی سرکار کو مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔
فریڈم فائیٹرز آف انڈیا کی چوتھی جلد میں ایچ جی اگروال لکھتے ہیں کہ غیر مقامی اشیا کے استعمال کے بائیکاٹ پر شکارپور میں انقلابی اقدامات اٹھائے گئے تھے جہاں دیسی چینی، صابن اور دیگر اشیا بنانے اور فروخت کرنے کا رجحان پیدا ہوا اور انگریز حکومت نے چیتو مل، ویرو مل اور گوند نامی تاجروں کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ۔
شکارپور میں مذہبی شدت پسندی کا یہ واقعہ بڑا ضرور ہے لیکن اس شدت پسندی کی جڑیں قیام پاکستان سے پہلے بھی نظر آتی ہیں جب اسی شہر کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو کو یہاں قتل کیا گیا تھا۔
اللہ بخش سومرو کے دور حکومت میں حیدرآباد کے قریب لنواری شریف کے علاقے میں ایسے افراد جو حج کے لیے نہیں جا سکتے ان کے لیے مقامی طور پر حج کی رسومات کی ادائیگی پر پابندی لگانے کے لیے ان پر دباؤ رہا، بعد میں سکھر میں سادھو بیلہ کے قریب ایک پلاٹ پر ہندو مسلم کشیدگی ہوئی، جو واقعہ تاریخ کے کتابوں میں مسجد منزل گاہ کے نام سے راقم ہے۔ اس کشیدگی میں دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے دو درجن کےقریب افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
گزرتے وقت اور حالات نے شکارپور سے اس کی مذہبی ہم آہنگی، تہذیب اور سماجی رشتوں کو چھینا ہے دیا کچھ نہیں۔







