’پاکستان میں پیٹرول سی این جی سے بھی سستا‘

پیٹرول کی قیمت میں اس کمی سے یہ ملک میں دستیاب متبادل ایندھن یعنی سی این جی سے بھی سستا ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنپیٹرول کی قیمت میں اس کمی سے یہ ملک میں دستیاب متبادل ایندھن یعنی سی این جی سے بھی سستا ہو جائے گا۔

پاکستان میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف نے قیمتوں میں کمی کا اعلان لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا۔

انھوں نے بتایا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مزید سات روپے 99 پیسے کمی کی گئی ہے اور اب اس کی نئی قیمت 70 روپے 29 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 62 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 56 پیسے، ہائی اوکٹین کی قیمت میں 11 روپے 82 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے 48 پیسے کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں یہ کمی یکم فروری سے نافذالعمل ہوگی۔

پیٹرول کی قیمت میں اس کمی سے یہ ملک میں دستیاب متبادل ایندھن یعنی سی این جی سے بھی سستا ہو جائے گا۔

اس وقت پاکستان میں سی این جی کی فی کلو کم سے کم قیمت ساڑھے 71 روپے ہے۔

اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے۔

جنوری کے آغاز میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیٹرول کا بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوری کے آغاز میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیٹرول کا بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا

انھوں نے صوبائی حکومتوں سے کہا کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی خاطر عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

وزیراعظم نواز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں میں معمول سے کم کمی کرنے کے بارے میں کہا کہ قیمتوں میں کمی سے حکومت کو ٹیکس محصولات میں خسارے کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے پیٹرول کی حالیہ قیمت میں فی لیٹر 10 روپے سے زائد کی کمی کی بجائے سات روپے ننانونے پیسے کمی کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس 22 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس محصولات میں آنے والے کمی کو پورا کرنے کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دی تھی۔

خیال رہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے پاکستان میں اس کمی کو صارفین کو منتقل کرنے کا سلسلہ گذشتہ چند ماہ سے جاری ہے۔

ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت اگست 2014 کے مقابلے میں تقریباً 38 روپے کم ہو چکی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 28 روپے 73 پیسے کی کمی دیکھی گئی ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اس کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے اور رواں ماہ کمی کے بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیٹرول کا بڑا بحران بھی پیدا ہوا تھا اور ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک پیٹرول دستیاب نہ تھا۔

پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم نے اس بحران کا ذمہ دار طلب میں اضافے کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ<link type="page"><caption> جنوری میں پیٹرول کی طلب میں 30 فیصد اضافہ ہوا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150119_petrol_crisis_hk.shtml" platform="highweb"/></link> جو بحران کی وجہ بنا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کے بعد حکومت پیٹرول کی طلب پوری کرنے میں کامیاب رہتی ہے یا نہیں۔

نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ حالیہ پیٹرول بحران سے کچھ لوگوں کے مخصوص مفادات وابستہ تھے اور اس سلسلے میں مکمل تحقیقات کے بعد کارروائی کی جا رہی ہے۔