پیٹرول کی قلت برقرار، چار اعلیٰ افسران معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیٹرول کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور پیٹرول کی قلت کے پیشِ نظر لاہور میں سی این جی سٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس قلت کے ذمہ دار چار افسران کو معطل کر دیا ہے اور صوبائی حکام سے کہا ہے کہ وہ پیٹرول کی بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کریں۔
صوبہ پنجاب میں سردیوں میں گیس کی کمی کی وجہ سے سی این جی سٹیشن پہلے ہی پانچ ماہ کے لیے بند ہیں اور اب چند دن سے پیٹرول کی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
لاہور سے نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق لاہور شہر کے 80 فیصد پیٹرول پمپس بند پڑے ہیں اور جو کھلے بھی ہیں ان پر طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
پنجاب کے مختلف شہروں کے علاوہ دارالحکومت اسلام آباد کے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور شہریوں کو پیٹرول کے حصول کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پنجاب کے شمالی اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پٹرول کی قلت ہے اور پیٹرول کی رسد بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
ریڈیو پاکستان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قلت کے پیش نظر صرف لاہور میں سی این جی سٹیشن دوبارہ کھولے جا رہے ہیں کیونکہ گیس کی قلت کے باعث اس وقت پورے پنجاب میں سی این جی سٹیشن دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ کے مطابق سی این جی پمپس مرحلہ وار کام شروع کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’تین ماہ سے سی این جی پمپس بند پڑے ہیں۔ سوئی گیس حکام نے پمپس پر نصب میٹر اتار لیے تھے جبکہ عملہ بھی چھیٹوں پر ہے۔ میٹر لگانے اور عملے کو واپس بلانے میں وقت لگے گا اور اس کے لیے چند گھنٹے چاہییں۔‘
غیاث پراچہ نے یہ بھی بتایا کہ ابھی یہ احکامات موصول نہیں ہوئے کہ سی این جی پمپس کتنے عرصے کے لیے کھولے جا رہے ہیں اور کیا یہ تمام ہفتہ کھلے رہیں گے یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر حکومت سی این جی پمپس کو بند کرنے کا حکم نہ دیتی تو پیٹرول کی قلت نہ ہوتی کیونکہ دیگر صوبوں میں سی این جی پمپس کھلے ہیں اور وہاں پیٹرول کا کوئی بحران نہیں۔
ادھر وزیراعظم نواز شریف نے ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قلت کا نوٹس لے لیا ہے۔
سنیچر کی شام سعودی عرب سے وطن واپسی کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر ہی ایک ہنگامی اجلاس میں انھوں نے قلت کے ذمہ دار چار افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
ان افسران میں سیکریٹری پٹرولیم عابد سعید، ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم نعیم ملک، ڈائریکٹر جنرل آئل ایم اعظم اور پی ایس او کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد جنجوعہ شامل ہیں۔
اس اجلاس میں پٹرول کی رسد اور ترسیل میں تیزی لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔







