پیٹرول سپلائی میں اضافہ، بحران کے ذمہ داران کے تعین کیلیے کمیٹی قائم

پٹرول کی قیمت میں یکم فروری سے پانچ روپے کمی متوقع

،تصویر کا ذریعہother

،تصویر کا کیپشنپٹرول کی قیمت میں یکم فروری سے پانچ روپے کمی متوقع

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ یکم فروری کو پیٹرولیم مصنوعات میں پانچ روپے کی مزید کمی کی جائے گی اور اس کی سپلائی 12000 ٹن سے بڑھا کر 15600 ٹن کر دی گئی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید بتایا کہ ذمے داران کے تعین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو منگل کو وزیراعظم کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں پیر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کے باعت پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر خراجہ اسحاق ڈار، وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیردفاع خواجہ آصف، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور سیکرٹری برائے پانی وبجلی سمیت سینیئر عہدے داروں نے شرکت کی۔

نواز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات نہ ملنے کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کو متعلقہ حکام کی جانب سے بتایا گیا ’آج ملک بھر میں صارفین کی سہولت کے لیے فوری طور پر 15,600 ٹن پیٹرول سپلائی کیا گیا اس کے مقابلے میں ملک میں روزانہ پیٹرول کی کھپت 12,000 ٹن ہے۔‘

نواز شریف کو مزید بتایا گیا کہ اگلے ماہ کے دوران اضافی پیٹرول کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اس مسئلے کا تعلق پیسے کے معاملات سے نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں پاکستان میں پیٹرول کی یومیہ طلب 12,000 تھی تاہم جنوری میں کھپت 15,000 یومیہ تک پہنچ گئی۔

’یکم جنوری کو پاکستان میں 40 ہزار ٹن پیٹرول کی فروخت ہوئی جو ایک ریکارڈ ہے اس سے پہلے پاکستان میں 16 ہزار ٹن سے زیادہ پیٹرول فروخت نہیں ہوا۔‘

وزیر پیٹرولیم کے مطابق پی ایس او کی شپ مینٹ میں چند روز کا تعطل آیا جس کی وجہ سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ پیٹرول کے بحران کی وجہ سے لاہور اور کراچی میں سی این جی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پنجاب میں سی این جی کی سپلائی بحال کرنے سے گھریلو صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

شاہد خاقان عباسی کے مطابق لاہور میں 1,60,000 لیٹر ، راولپنڈی میں 5,75,000، اسلام آباد میں 60,000 لیٹر پیٹرول کی سپلائی دی گئی ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی 30 فیصد اضافی کھپت کی پیش گوئی کوئی ادارہ نہیں کر سکتا۔

’جنوری میں 30 فیصد اضافی کھپت کا انتظام موجود نہیں تھا۔‘