پیٹرول کی قیمتوں میں کمی، عوام کو ریلیف؟

قومی اسمبلی میں پیٹرول کی قمیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہ پہنچنے کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس بھی پیش کیا جاچکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقومی اسمبلی میں پیٹرول کی قمیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہ پہنچنے کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس بھی پیش کیا جاچکا ہے
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

فرزانہ معراج لاہور کے پوش علاقے اپر مال میں دن بھر کوٹھیوں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہیں۔ اپنے گھر سے تقریبا دو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود مغل پورہ سبزی منڈی سے وہ ہفتے میں ایک دو بار سبزی خریدنے جاتی ہیں۔ اس امید پر کہ شاید کچھ سستی سبزی مل سکے۔ آج بھی وہ یہی امید لیے یہاں آئی ہیں۔

فرزانہ ہردکان پر رکتی ہیں۔ مختلف چیزیں اٹھا کر بھاو پوچھتی ہیں اور منہ میں کچھ بڑبڑاتی آگے بڑھ جاتی ہیں۔ کسی دکان پر تو دکاندار سے تلخ کلامی بھی ہوجاتی ہے۔

’بھائی پالک کیا بھاو ہے۔‘ جواب ملا 40 روپے کلو۔’لو گلیوں میں تو رہڑیوں والے 30 روپے کا بیچ رہے ہیں۔ یہاں تو ہر چیز کو ہی آگ لگی ہے۔‘ فرزانہ بولیں۔

اسی بحث میں جب انھوں نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کیا تو دکاندار بھنا گیا۔ پنجابی میں بولا :’میں کوئی پٹرول پیندا آں میرے کول سے سائیکل وی نہیں میں کہیہ کراں۔‘

فرزانہ نے دکاندار کو تو خوب سنائی اور خوفِ خدا یاد دلایا۔ اور پھر مایوس سا چہرہ لیا آگے بڑھ گئیں۔

فرزانہ نے بتایا کہ ’سمجھ نہیں آتی کہ ہانڈی پکاوں یا تین بچوں کی پڑھائی کراوں۔ یہاں تو کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ جس چیز کو ہاتھ لگاو وہی مہنگی ہے۔ ہر کسی کا اپنا ریٹ ہے۔‘

پٹرول کی قیمت میں گذشتہ دو ماہ میں جتنی کمی ہوئی ہےماضی قریب میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ قمیتوں کے اتار چڑھاو کا تعلق تو عالمی منڈی کے حساب سے ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان میں سیاسی بحرانوں میں گھری حکومت نے اس کمی سے عوام کے دل جیتنے کی توقع لگا رکھی ہے اور اس مقصد میں انھیں جزوی طور پر کامیابی ہوئی بھی ہے۔

لاہور کے ایک پٹرول پمپ پر لوگوں کا ردعمل جاننے کی کوشش کی تو کافی لوگوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ ایک موٹر سائیکل سوار بولے کہ پہلے تو گھر سے نکلنے سے پہلے دس بار سوچتے تھے لیکن اب ہم زیادہ گھوم پھر سکیں گے جبکہ اپنے موٹر سائیکل کی ٹینکی بھرواتے ہوئے ایک صاحب کا کہنا تھا پہلے ٹینکی بھروانا ممکن ہی نہیں تھا، اب یہ صورتحال نہیں، ہمیں کافی ریلیف ملا ہے۔

بات تو سہی ہے۔ ایک لیٹر پٹرول پر جب 20 روپے کی کمی ہوگی تو فرق تو پڑے گا لیکن یہ ریلیف تو ابھی تک انھیں لوگوں تک پہنچ پایا ہے جن کے پاس گاڑی یا موٹرسائیکل ہے۔

گھروں میں کام کرنے والی فرزانہ معراج کا کہنا ہے کہ ’یہاں تو کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ جس چیز کو ہاتھ لگاو وہی مہنگی ہے۔ ہر کسی کا اپنا ریٹ ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگھروں میں کام کرنے والی فرزانہ معراج کا کہنا ہے کہ ’یہاں تو کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ جس چیز کو ہاتھ لگاو وہی مہنگی ہے۔ ہر کسی کا اپنا ریٹ ہے‘

پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے لاکھوں لوگ نجی ٹرانسپورٹ نہیں رکھتے اور انھیں عام بسوں اور ویگنوں پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے مسافر اس تاریخی کمی سے بھی خوش نہیں۔ عبدالغنی بھی ان میں سے ایک ہیں۔

عبدالغنی کہتے ہیں:’ پٹرول کی قیمتوں میں15 سے 20 فیصد تک کمی ہوئی ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے محض پانچ فیصد ہی کم کیے گئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹروں کی بھی نگرانی کرے اور انھیں مجبور کرے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پوری طرح عوام کو بھی دیا جائے۔‘

ماضی میں جب بھی پٹرول کی قمیمتوں میں اضافہ ہوتا تو دکاندار، تاجر، ٹرانسپورٹر ہر کوئی خود بخود اسی تناسب سے اپنے نرخوں میں بھی اضافہ کرلیتے لیکن کمی کا نفاذ تو ظاہر ہے پاکستان جیسے ملک میں حکومت کو خود طاقت سے ہی کروانا پڑے گا۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار تو اس کی ذمےداری صوبوں پر ڈال رہے ہیں۔

ایک موٹر سائیکل سوار بولے کہ پہلے تو گھر سے نکلنے سے پہلے دس بار سوچتے تھے لیکن اب ہم زیادہ گھوم پھر سکیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک موٹر سائیکل سوار بولے کہ پہلے تو گھر سے نکلنے سے پہلے دس بار سوچتے تھے لیکن اب ہم زیادہ گھوم پھر سکیں گے

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر دوران ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملہ ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے چاروں وزرائے اعلیٰ کو خط لکھے ہیں کہ وہ اس پر عمل درآمد کروائیں۔ جو بھی کمی ہوئی ہے اسے عوام تک پہنچایا جائے گا۔‘

قومی اسمبلی میں پیٹرول کی قمیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہ پہنچنے کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس بھی پیش کیا جاچکا ہے۔ اور اپوزیشن کی جانب سے پہلے ہی بین الاقوامی قیمتوں کے تناسب سے اس کمی کو ناکافی قرار دیا جارہا ہے۔

ایسی صورتحال میں اگر کمی کا فائدہ پوری طرح لوگوں کو نہ پہنچ پایا تو عام آدمی تو مشکل میں رہے گا ہی لیکن حکومت بھی اس موقعے سے بھرپور سیاسی فائدہ نہیں اٹھا پائے گی۔